المعجم الكبير للطبراني
باب الثاء— حرف ثا سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
ثوبان مولى رسول الله صلى الله عليه وسلم " من غرائب مسند ثوبان رضي الله عنه يكنى أبا عبد الله ويقال: هو من اليمن، من حمير مولى آل رسول الله صلى الله عليه وسلم، ويقال أصابه سبي فاشتراه رسول الله صلى الله عليه وسلم، فأعتقه كان يسكن حمص، مات سنة أربع باب: سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ، رسول اللہ ﷺ کے مولیٰ (یہ مسند ثوبان رضی اللہ عنہ کی نادر روایات میں سے ہے)، کنیت ابوعبداللہ، کہا جاتا ہے کہ وہ یمن کے حمیر قبیلے سے ہیں، آل رسول اللہ ﷺ کے مولیٰ ہیں، اور کہا جاتا ہے کہ وہ قید ہوئے تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں خرید کر آزاد کر دیا، وہ حمص میں رہتے تھے، اور چار ہجری میں وفات پائی
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الرَّقَاشِيُّ، ح وثنا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ الرَّقِّيُّ، ثنا أَبُو مَعْمَرٍ الْمُقْعَدُ، ثنا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُحَادَةَ، ثنا حُمَيْدٌ الشَّامِيُّ، عَنْ سُلَيْمَانَ الْمُنَبِّهِيِّ، عَنْ ثَوْبَانَ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذَا سَافَرَ فآخِرُ عَهْدِهِ بِإِنْسَانٍ، مِنْ أَهْلِ بَيْتِهِ فَاطِمَةُ، فَإِذَا رَجَعَ فَأَوَّلُ مَنْ يَدْخُلُ عَلَيْهَا، قَالَ: فَقَدِمَ مِنْ غَزَاةٍ لَهُ، أَوْ سَفَرٍ، فَإِذَا فَاطِمَةُ قَدْ عَلَّقَتْ مَسْحًا عَلَى بَابِهَا، وَحَلَّتِ الْحَسَنُ، وَالْحُسَيْنُ قَلْبَيْنِ، مِنْ فِضَّةٍ، فَرَجَعَ، فَظَنَّتْ إِنَّمَا رَجَعَ مِنْ أَجْلِ مَا رَأَى فَنَزَعَتِ السِّتْرَ، وَنَزَعَتِ الْقَلْبَيْنِ، عَنِ الصَّبِيَّيْنِ، فَقَطَعَتْهُ، فَدَفَعَتْهُ إِلَيْهِمَا، فَأَتَيَا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُمَا يَبْكِيَانِ، فَقَالَ: «يَا ثَوْبَانُ خُذْ هَذَيْنِ، فَاذْهَبْ بِهِمَا إِلَى أَهْلِ بَيْتٍ بِالْمَدِينَةِ» ، فَأَحْسَبُهُ قَالَ: «مُحْتَاجِينَ، فَإِنَّ هَؤُلَاءِ أَهْلُ بَيْتِي، وَإِنِّي أَكْرَهُ، أَنْ يأْكُلُوا طَيِّبَاتِهِمْ فِي حَيَاتِهِمُ الدُّنْيَا» ، ثُمَّ قَالَ: «يَا ثَوْبَانُ، اشْتَرِ لِفَاطِمَةَ قِلَادَةً مِنْ عَصَبٍ، وَسِوَارَيْنِ مِنْ عَاجٍ»سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ جب سفر پر جاتے تو اپنے گھر والوں میں سب سے آخر میں سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے ملتے، اور جب واپس آتے تو سب سے پہلے انہی کے پاس جاتے۔ راوی کہتے ہیں: ایک بار آپ ﷺ کسی غزوے یا سفر سے واپس تشریف لائے تو دیکھا کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے اپنے دروازے پر ایک پردہ لٹکا رکھا ہے، اور حسن و حسین رضی اللہ عنہما کو چاندی کے دو کنگن پہنا رکھے ہیں۔ آپ ﷺ واپس لوٹ گئے، تو انہیں گمان ہوا کہ آپ ﷺ اسی چیز کو دیکھ کر واپس گئے ہیں جو انہوں نے دیکھی، چنانچہ انہوں نے پردہ اتار دیا، اور دونوں بچوں سے کنگن اتار لیے، پھر انہیں کاٹ کر ان دونوں کو دے دیا، وہ دونوں روتے ہوئے نبی کریم ﷺ کے پاس آئے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے ثوبان! یہ دونوں لے جاؤ اور مدینہ میں کسی گھرانے کے پاس لے جاؤ“، میرا خیال ہے آپ ﷺ نے فرمایا: ”ضرورت مند (گھرانے کے پاس)، کیونکہ یہ میرے گھر والے ہیں، اور مجھے یہ ناپسند ہے کہ یہ اپنی دنیوی زندگی میں اپنی پاکیزہ چیزیں (پہلے ہی) کھا لیں“، پھر فرمایا: ”اے ثوبان! فاطمہ کے لیے عصب کا ایک ہار اور ہاتھی دانت کے دو کنگن خرید لاؤ۔“