حدیث نمبر: 1440
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الرَّقَاشِيُّ، ح وثنا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ الرَّقِّيُّ، ثنا أَبُو مَعْمَرٍ الْمُقْعَدُ، ثنا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُحَادَةَ، ثنا حُمَيْدٌ الشَّامِيُّ، عَنْ سُلَيْمَانَ الْمُنَبِّهِيِّ، عَنْ ثَوْبَانَ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذَا سَافَرَ فآخِرُ عَهْدِهِ بِإِنْسَانٍ، مِنْ أَهْلِ بَيْتِهِ فَاطِمَةُ، فَإِذَا رَجَعَ فَأَوَّلُ مَنْ يَدْخُلُ عَلَيْهَا، قَالَ: فَقَدِمَ مِنْ غَزَاةٍ لَهُ، أَوْ سَفَرٍ، فَإِذَا فَاطِمَةُ قَدْ عَلَّقَتْ مَسْحًا عَلَى بَابِهَا، وَحَلَّتِ الْحَسَنُ، وَالْحُسَيْنُ قَلْبَيْنِ، مِنْ فِضَّةٍ، فَرَجَعَ، فَظَنَّتْ إِنَّمَا رَجَعَ مِنْ أَجْلِ مَا رَأَى فَنَزَعَتِ السِّتْرَ، وَنَزَعَتِ الْقَلْبَيْنِ، عَنِ الصَّبِيَّيْنِ، فَقَطَعَتْهُ، فَدَفَعَتْهُ إِلَيْهِمَا، فَأَتَيَا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُمَا يَبْكِيَانِ، فَقَالَ: «يَا ثَوْبَانُ خُذْ هَذَيْنِ، فَاذْهَبْ بِهِمَا إِلَى أَهْلِ بَيْتٍ بِالْمَدِينَةِ» ، فَأَحْسَبُهُ قَالَ: «مُحْتَاجِينَ، فَإِنَّ هَؤُلَاءِ أَهْلُ بَيْتِي، وَإِنِّي أَكْرَهُ، أَنْ يأْكُلُوا طَيِّبَاتِهِمْ فِي حَيَاتِهِمُ الدُّنْيَا» ، ثُمَّ قَالَ: «يَا ثَوْبَانُ، اشْتَرِ لِفَاطِمَةَ قِلَادَةً مِنْ عَصَبٍ، وَسِوَارَيْنِ مِنْ عَاجٍ»
ترجمہ

… اور دونوں بچوں سے دل (کی شکل کے زیورات) نکالے، پھر انہیں کاٹ کر ان دونوں کو دے دیا، وہ دونوں روتے ہوئے نبی کریم ﷺ کے پاس آئے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے ثوبان! یہ دونوں لے جاؤ اور مدینہ میں کسی گھرانے کے پاس لے جاؤ“، میرا خیال ہے آپ ﷺ نے فرمایا: ”ضرورت مند (گھرانے کے پاس)، کیونکہ یہ میرے گھر والے ہیں، اور مجھے یہ ناپسند ہے کہ یہ اپنی دنیوی زندگی میں اپنی پاکیزہ چیزیں (پہلے ہی) کھا لیں“، پھر فرمایا: ”اے ثوبان! فاطمہ کے لیے کھجور کی گٹھلی کا ایک ہار اور ہاتھی دانت کے دو کنگن خرید لاؤ۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الثاء / حدیث: 1440
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 103، حدیث 1453