المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
عدي الجذامي باب: سیدنا عدی جذامی رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّائِغُ الْمَكِّيُّ، وَخَلَفُ بْنُ عَمْرٍو الْعُكْبَرِيُّ، قَالَا: ثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثَنَا حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَرْمَلَةَ، عَنْ عَدِيٍّ الْجُذَامِيِّ، أَنَّهُ لَقِيَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، كَانَتْ لِيَ امْرَأَتَانِ فَاقْتَتَلَتَا فَرَمَيْتُ إِحْدَاهُمَا فَقَتَلْتُهَا، فَقَالَ: «اعْقِلْهَا وَلَا تَرِثْها» ، فَكَأَنِّي أنْظُرُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى نَاقَةٍ حَمْرَاءَ جَدْعَاءَ وَهُوَ يَقُولُ: «يَا أَيُّهَا النَّاسُ، تَعَلَّمُوا فَإِنَّمَا الْأَيْدِي ثَلَاثَةٌ، فَيَدُ اللهِ الْعُلْيَا، وَيَدُ الْمُعْطِي الْوُسْطَى، وَيَدُ الْمُعْطَى السُّفْلَى، فَتَعَفَّفُوا وَلَوْ بِحُزَمِ الْحَطَبِ، أَلَا هَلْ بَلَّغْتُ أَلَا هَلْ بَلَّغْتُ»سیدنا عدی جذامی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ اپنے ایک سفر میں رسول اللہ ﷺ سے ملے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میری دو بیویاں تھیں، وہ آپس میں لڑ پڑیں تو میں نے ایک پر (کچھ) پھینکا جس سے وہ مر گئی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کی دیت ادا کرو اور اس کی وارث نہ بنو۔“ گویا میں اب بھی رسول اللہ ﷺ کو ایک سرخ کان کٹی اونٹنی پر سوار دیکھ رہا ہوں، آپ ﷺ فرما رہے تھے: ”اے لوگو! جان لو کہ ہاتھ تین ہیں: اللہ کا ہاتھ سب سے اوپر ہے، دینے والے کا ہاتھ درمیان میں ہے، اور لینے والے کا ہاتھ سب سے نیچے ہے۔ پس (لینے سے) بچو، خواہ لکڑیوں کے گٹھر ہی سے کیوں نہ کمانا پڑے۔ خبردار! کیا میں نے پہنچا دیا؟ خبردار! کیا میں نے پہنچا دیا؟“