المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
خيثمة بن عبد الرحمن، عن عدي بن حاتم باب: خیثمہ بن عبدالرحمن کی سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، ثَنَا هَاشِمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ خُثَيْمٍ الْهِلَالِيُّ، ثنا أَبُو جُنَادَةَ - وَكَانَ يَسْكُنُ بَنِي سَلُولَ - ثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ خَيْثَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يُؤْمَرُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِنَاسٍ إِلَى الْجَنَّةِ، حَتَّى إِذَا دَنَوْا مِنْهَا واسْتَنْشَقُوا رائِحَتَهَا ونَظَرُوا إِلَى قُصُورَهَا وَمَا أَعَدَّ اللهُ لِأهْلِهَا فِيهَا نُودُوا: اصْرِفُوهُمْ عَنْهَا لَا نَصِيبَ لَهُمْ فِيهَا فَيَرْجِعُونَ بِحَسْرَةٍ مَا رَجَعَ الْأَوَّلُونَ بِمِثْلِهَا فَيَقُولُونَ: رَبَّنَا لَو أَدْخَلْتَنَا النَّارَ قَبْلَ أَنْ تُرِيَنا مِنْ ثَوَابِكَ وَمَا أَعْدَدْتَ فِيهَا لِأَوْلِيَائِكَ كَانَ أَهْوَنَ عَلَيْنَا قَالَ: ذَلِكَ أَرَدْتُ بِكُمْ، إِذَا خَلَوْتُمْ بَارَزْتُمُونِي بِالْعِظَامِ وَإِذَا لَقِيتُمُ النَّاسَ لَقِيتُمُوهُمْ مُخْبِتينَ تُرَاءُونَ النَّاسَ بِخِلَافِ مَا تُعْطُونِي مِنْ قُلُوبِكُمْ، هِبْتُمُ النَّاسَ وَلَمْ تَهَابُونِي، وَأَجْلَلْتُمُ النَّاسَ وَلَمْ تُجِلُّونِي، وَتَرَكْتُمْ لِلنَّاسِ وَلَمْ تَتْرُكُوا لِي، فَالْيَوْمَ أُذِيقُكُمْ أَلِيمَ الْعَذَابِ مَعَ مَا حَرَمْتُكُمْ مِنَ الثَّوَابِ "سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”قیامت کے دن کچھ لوگوں کو جنت کی طرف لے جانے کا حکم دیا جائے گا، یہاں تک کہ جب وہ اس کے قریب پہنچ جائیں گے اور اس کی خوشبو سونگھ لیں گے اور اس کے محلات اور جو کچھ اللہ نے اس کے رہنے والوں کے لیے تیار کر رکھا ہے دیکھ لیں گے تو انہیں آواز دی جائے گی: انہیں یہاں سے پھیر دو، ان کا اس میں کوئی حصہ نہیں۔ تو وہ ایسی حسرت کے ساتھ واپس لوٹیں گے جیسی حسرت پہلے کسی نے نہ کی ہو گی۔ وہ کہیں گے: اے ہمارے رب! اگر تو ہمیں اپنے ثواب اور اپنے اولیاء کے لیے تیار کردہ نعمتیں دکھانے سے پہلے ہی جہنم میں داخل کر دیتا تو ہم پر یہ زیادہ آسان ہوتا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: میں نے تم سے یہی چاہا تھا۔ جب تم تنہا ہوتے تو مجھ سے بڑی بڑی باتیں کرتے (سرکشی کرتے)، اور جب لوگوں سے ملتے تو ان کے سامنے عاجزی دکھاتے، تم اپنے دلوں کی حالت کے برخلاف لوگوں کو دکھاوا کرتے تھے، تم لوگوں سے ڈرتے تھے مگر مجھ سے نہیں ڈرتے تھے، تم لوگوں کی تعظیم کرتے تھے مگر میری تعظیم نہیں کرتے تھے، اور تم نے لوگوں کے لیے (گناہ) چھوڑے مگر میرے لیے نہیں چھوڑے۔ آج میں تمہیں دردناک عذاب چکھاؤں گا، اس کے ساتھ کہ میں نے تمہیں ثواب سے بھی محروم کر دیا۔“