المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
باب (أحاديث 14241–14251) باب: (احادیث 14241 تا 14251)
حدیث نمبر: 14248
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثَنَا مُسَدَّدٌ، ثَنَا حُصَيْنُ بْنُ نُمَيْرٍ، ثَنَا حُصَيْنٌ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ {حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الْأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الْأَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ} [البقرة: ١٨٧] أَخَذْتُ عِقَالًا أَسْوَدَ وَعِقَالًا أَبْيَضَ فَوَضَعْتُهُمَا تَحْتَ وِسَادَتِي فَنَظَرْتُ فَلَمْ أَتَبَيَّنْ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَضَحِكَ وَقَالَ: «إِنَّ وِسَادَكَ إِذًا لَعَرِيضٌ طَوِيلٌ إِنَّمَا هَذَا اللَّيْلُ وَالنَّهَارُ»ترجمہ
سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: (آیت ”...سفید دھاگا کالے دھاگے سے فجر کے وقت واضح ہو جائے“ [سورۃ البقرہ: 187] کے نزول پر) میں نے ایک کالی رسی اور ایک سفید رسی لے کر انہیں اپنے تکیے کے نیچے رکھ لیا، پھر دیکھتا رہا مگر مجھے فرق واضح نہ ہوا۔ میں نے یہ بات رسول اللہ ﷺ سے ذکر کی تو آپ ﷺ ہنس پڑے اور فرمایا: ”تمہارا تکیہ تو پھر بہت چوڑا اور لمبا ہونا چاہیے! اس سے تو مراد رات اور دن ہیں۔“