المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
باب (أحاديث 14241–14251) باب: (احادیث 14241 تا 14251)
حدیث نمبر: 14247
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْبَرَاءِ، ثَنَا الْمُعَافَى بْنُ سُلَيْمَانَ، ثَنَا مُوسَى بْنُ أَعْيَنَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ مُجَالِدٍ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، قَدْ حَفِظْتُ كُلَّ شَيْءٍ أَوْصَيْتَنِي بِهِ غَيْرَ الْخَيْطِ الْأَبْيَضِ مِنَ الْخَيْطِ الْأَسْوَدِ، إِنِّي نِمْتُ الْبَارِحَةَ مَعِي خَيْطانِ أنْظُرُ إِلَى هَذَا مَرَّةً وَإلَى هَذَا مَرَّةً، فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ: «إِنَّمَا الْخَيْطُ الْأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الْأَسْوَدِ الَّذِي فِي أُفُقِ السَّمَاءِ»ترجمہ
سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: (میں نے عرض کیا) کہ میں نے کل رات سوتے ہوئے دو دھاگے اپنے پاس رکھے، کبھی اس کی طرف دیکھتا کبھی اس کی طرف۔ اس پر رسول اللہ ﷺ مسکرا دیے اور فرمایا: ”سفید دھاگے سے مراد تو وہ ہے جو آسمان کے کنارے پر (سفیدی کی صورت میں) نظر آتا ہے، کالے دھاگے کے مقابلے میں۔“