المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
عمير مولى آبي اللحم الغفاري واسم آبي اللحم عبد الله بن عبد بن مالك بن عبد الله بن عفان وكان آبي اللحم شاعرا وشهد عمير فتح خيبر وإنما سمي آبي اللحم لأنه كان يمتنع من أكل اللحم. باب: سیدنا عمیر رضی اللہ عنہ، آبی اللحم غفاری کے آزاد کردہ غلام، آبی اللحم کا نام عبداللہ بن عبد بن مالک بن عبداللہ بن عفان تھا، وہ شاعر تھے، عمیر رضی اللہ عنہ نے خیبر کی فتح میں شرکت کی، اور آبی اللحم اس لیے کہلائے کیونکہ وہ گوشت کھانے سے پرہیز کرتے تھے
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثَنَا مُسَدَّدٌ، ثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِيهِ إِسْحَاقَ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَمِّهِ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللهِ، وَعَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ عُمَيْرٍ مَوْلَى آبِي اللَّحْمِ قَالَ: أَقْبَلْتُ مَعَ سَادَتِي إِلَى الْمَدِينَةِ نُرِيدُ الْهِجْرَةَ حَتَّى إِذَا دَنَوْنَا مِنَ الْمَدِينَةِ تَرَكُونِي فِي ظُهُورِهِمْ وَرَحَلُوا فَأَصَابَنِي مَجَاعَةٌ شَدِيدَةٌ، فَمَرَّ بِي بَعْضُ مَنْ خَرَجَ مِنَ الْمَدِينَةِ فَقَالَ: إِنَّكَ لَوْ دَخَلْتَ بَعْضَ حَوَائِطِ الْمَدِينَةِ أَصَبْتَ مِنْ ثَمَرِهَا، قَالَ عُمَيْرٌ: فَدَخَلْتُ حَائِطًا مِنْ حَوَائِطِ الْمَدِينَةِ فَقَطَعْتُُ قِنْوَيْنِ مِنْ نَخْلِهِ، فَجَاءَنِي صَاحِبُ الْحَائِطِ فَخَرَجَ بِي حَتَّى أَتَى بِيَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلَنِي عَنْ أَمْرِي فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ لِي: «أَيُّهُمَا أَفْضَلُ؟» فَأشَرْتُ إِلَى أَحَدِهِمَا، فَأَمَرَنِي فَأَخَذْتُهُ، وَأَمَرَ صَاحِبَ الْحَائِطِ فَأَخَذَ الْآخَرَ، وَخَلَّى سَبِيلِيعمیر، آبی اللحم کے غلام، رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: میں اپنے آقاؤں کے ساتھ ہجرت کے ارادے سے مدینہ کی طرف آیا، جب ہم مدینہ کے قریب پہنچے تو وہ مجھے اپنے پیچھے (سامان کے ساتھ) چھوڑ کر آگے روانہ ہو گئے، مجھے شدید بھوک لگی۔ مدینہ سے نکلنے والے کسی شخص کا میرے پاس سے گزر ہوا تو اس نے کہا: اگر تم مدینہ کے کسی باغ میں چلے جاؤ تو اس کے پھل سے کچھ حاصل کر لو گے۔ عمیر کہتے ہیں: چنانچہ میں مدینہ کے ایک باغ میں داخل ہوا اور اس کے کھجور کے درخت سے دو خوشے کاٹ لیے، پھر باغ کا مالک میرے پاس آیا اور مجھے لے کر نبی کریم ﷺ کے پاس حاضر ہوا۔ آپ ﷺ نے مجھ سے میرا معاملہ پوچھا تو میں نے آپ کو بتا دیا۔ آپ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: ”ان دونوں میں سے کون سا بہتر ہے؟“ میں نے ایک کی طرف اشارہ کیا، آپ ﷺ نے مجھے حکم دیا تو میں نے وہی لے لیا، اور باغ کے مالک کو حکم دیا تو اس نے دوسرا لے لیا، اور آپ ﷺ نے مجھے آزاد کر دیا۔