المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
عمير مولى آبي اللحم الغفاري واسم آبي اللحم عبد الله بن عبد بن مالك بن عبد الله بن عفان وكان آبي اللحم شاعرا وشهد عمير فتح خيبر وإنما سمي آبي اللحم لأنه كان يمتنع من أكل اللحم. باب: سیدنا عمیر رضی اللہ عنہ، آبی اللحم غفاری کے آزاد کردہ غلام، آبی اللحم کا نام عبداللہ بن عبد بن مالک بن عبداللہ بن عفان تھا، وہ شاعر تھے، عمیر رضی اللہ عنہ نے خیبر کی فتح میں شرکت کی، اور آبی اللحم اس لیے کہلائے کیونکہ وہ گوشت کھانے سے پرہیز کرتے تھے
حدیث نمبر: 14197
حَدَّثَنَا الْمِقْدَامُ بْنُ دَاوُدَ، ثَنَا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، قَالَا: ثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ قَالَ: سَمِعْتُ عُمَيْرًا، مَوْلَى آبِي اللَّحْمِ قَالَ: أَمَرَنِي مَوْلَايَ أَنْ أُقَدِّدَ لَحْمًا فَجَاءَنِي مِسْكِينٌ فَأطْعَمْتُهُ مِنْهُ، فَعَلِمَ فَضَرَبَنِي، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فَدَعَاهُ، فَقَالَ: «لِمَ ضَرَبْتَهُ؟» قَالَ: يُطْعِمُ طَعَامًا مِنْ غَيْرِ أَنْ آمُرَهُ، قَالَ: «الْأَجْرُ بَيْنَكُمَا»ترجمہ
عمیر، جو آبی اللحم غفاری کے غلام تھے، سے روایت ہے، فرماتے ہیں: میرے مالک نے مجھے حکم دیا کہ میں گوشت کو خشک کر کے محفوظ کر لوں، اسی دوران ایک مسکین میرے پاس آیا تو میں نے اسے اس میں سے کھلا دیا۔ میرے مالک کو اس کا علم ہوا تو انہوں نے مجھے مارا۔ میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور انہیں یہ بات بتائی، آپ ﷺ نے میرے مالک کو بلوایا اور پوچھا: ”تم نے اسے کیوں مارا؟“ انہوں نے کہا: یہ بغیر میرے حکم کے کھانا کھلا دیتا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کا اجر تم دونوں کو ملے گا۔“