حدیث نمبر: 14197
حَدَّثَنَا الْمِقْدَامُ بْنُ دَاوُدَ، ثَنَا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، قَالَا: ثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ قَالَ: سَمِعْتُ عُمَيْرًا، مَوْلَى آبِي اللَّحْمِ قَالَ: أَمَرَنِي مَوْلَايَ أَنْ أُقَدِّدَ لَحْمًا فَجَاءَنِي مِسْكِينٌ فَأطْعَمْتُهُ مِنْهُ، فَعَلِمَ فَضَرَبَنِي، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فَدَعَاهُ، فَقَالَ: «لِمَ ضَرَبْتَهُ؟» قَالَ: يُطْعِمُ طَعَامًا مِنْ غَيْرِ أَنْ آمُرَهُ، قَالَ: «الْأَجْرُ بَيْنَكُمَا»
ترجمہ

عمیر، جو آبی اللحم غفاری کے غلام تھے، سے روایت ہے، فرماتے ہیں: میرے مالک نے مجھے حکم دیا کہ میں گوشت کو خشک کر کے محفوظ کر لوں، اسی دوران ایک مسکین میرے پاس آیا تو میں نے اسے اس میں سے کھلا دیا۔ میرے مالک کو اس کا علم ہوا تو انہوں نے مجھے مارا۔ میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور انہیں یہ بات بتائی، آپ ﷺ نے میرے مالک کو بلوایا اور پوچھا: ”تم نے اسے کیوں مارا؟“ انہوں نے کہا: یہ بغیر میرے حکم کے کھانا کھلا دیتا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کا اجر تم دونوں کو ملے گا۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 14197
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 17، صفحہ 65، حدیث 125