المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
عمير بن أمية باب: سیدنا عمیر بن امیہ رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو الْخَلَّالُ الْمَكِّيُّ، ثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدٍ، ثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرئُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي أَيُّوبَ، أَنَّ يَزِيدَ بْنَ أَبِي حَبِيبٍ، حَدَّثَهُ أَنَّ السَّلَمَ بْنَ يَزِيدَ , وَيَزِيدَ بْنَ إِسْحَاقَ حَدَّثَاهُ، عَنْ عُمَيْرِ بْنِ أُمَيَّةَ، أَنَّهُ كَانَتْ لَهُ أُخْتٌ وَكَانَ إِذَا خَرَجَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آذَتْهُ فِيهِ وشَتَمَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَتْ مُشْرِكَةً، فَاشْتَمَلَ لَهَا يَوْمًا عَلَى السَّيْفِ، ثُمَّ أَتَاهَا فَوَضَعَهُ عَلَيْهَا فَقَتَلَهَا، فَقَامَ بَنُوهَا فَصَاحُوا وَقَالُوا: قَدْ عَلِمْنَا مَنْ قَتَلَهَا أَفَتُقْتَلُ أُمُّنَا؟ وهَؤُلَاءِ قَوْمٌ لَهُمْ آبَاءٌ وَأُمَّهَاتٌ مُشْرِكُونَ، فَلَمَّا خَافَ عُمَيْرٌ أَنْ يَقْتُلُوا غَيْرَ قَاتِلِهَا ذَهَبَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ فَقَالَ: «أَقَتَلْتَ أُخْتَكَ؟» قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: «وَلِمَ؟» قَالَ: إِنَّهَا كَانَتْ تُؤْذِينِي فِيكَ، فَأَرْسَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى بَنِيهَا فَسَأَلَهُمْ؟ فَسَمُّوا غَيْرَ قَاتِلِهَا، فَأَخْبَرَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهِ وأَهْدَرَ دَمَهَا قَالُوا: سَمْعًا وَطَاعَةًسیدنا عمیر بن امیہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان کی ایک بہن تھی جو مشرکہ تھی، اور جب وہ نبی کریم ﷺ کے پاس جانے کے لیے نکلتے تو وہ انہیں اس بارے میں تکلیف دیتی اور نبی کریم ﷺ کو گالیاں دیتی تھی۔ ایک دن انہوں نے اپنے کپڑوں میں تلوار چھپا لی، پھر اس کے پاس گئے اور تلوار اس پر رکھ کر اسے قتل کر دیا۔ اس کے بیٹے کھڑے ہو کر چیخے اور کہنے لگے: ہمیں معلوم ہو گیا کہ اسے کس نے قتل کیا، تو کیا ہماری ماں قتل کی جائے گی؟ حالانکہ یہ بعض لوگ ایسے تھے جن کے والدین مشرک تھے۔ جب عمیر کو خدشہ ہوا کہ کہیں وہ اس کے اصل قاتل کے علاوہ کسی اور کو قتل نہ کر دیں تو وہ نبی کریم ﷺ کے پاس گئے اور انہیں بتا دیا۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا تم نے اپنی بہن کو قتل کیا؟“ عرض کیا: جی ہاں۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیوں؟“ عرض کیا: وہ آپ کی شان میں مجھے تکلیف دیا کرتی تھی۔ نبی کریم ﷺ نے اس کے بیٹوں کو بلوا کر ان سے پوچھا تو انہوں نے اصل قاتل کے علاوہ کسی اور کا نام لیا، نبی کریم ﷺ نے انہیں اصل حقیقت بتا دی اور اس کا خون رائیگاں قرار دے دیا۔ انہوں نے کہا: ہم نے سنا اور مانا۔