المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
أخبار عمير بن سعد باب: سیدنا عمیر بن سعد رضی اللہ عنہ کے حالات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الروبَالِ الْأَدْمِيُّ الشِّيرَازِيُّ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَكِيمٍ الشِّيرَازِيُّ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَكِيمٍ الرَّازِيُّ، ثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ هَارُونَ بْنِ عَنْتَرَةَ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، عَنْ عُمَيْرِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: بَعَثَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ عُمَيْرَ بْنَ سَعْدٍ عَامِلًا عَلَى حِمْصَ فَمَكَثَ حَوْلًا لَا يَأْتِيَهِ خَبَرٌ، فَقَالَ عُمَرُ لِكَاتِبِهِ: اكْتُبْ إِلَى عُمَيْرٍ فَوَاللهِ مَا أُرَاهُ إِلَّا قَدْ خَانَنَا، فَإِذَا جَاءَكَ كِتَابِي هَذَا فَأَقْبِلْ وأَقْبِلْ بِمَا جَبَيْتَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ حِينَ تَنْظُرُ فِي كِتَابِي هَذَا قَالَ: فَأَخَذَ عُمَيْرٌ جِرَابَهُ فَجَعَلَ فِيهِ زَادَهُ وَقَصْعَتَهُ، وَعَلَّقَ إِدَاوَتَهُ وَأَخَذَ عَنَزَتَهُ، ثُمَّ أَقْبَلَ يَمْشِي مِنْ حِمْصَ حَتَّى دَخَلَ إِلَى الْمَدِينَةِ قَالَ: فَقَدِمَ وَقَدْ شَحَبَ لَوْنُهُ وَاغْبَرَّ وَجْهُهُ وَطَالَتْ شَعَرَتُهُ، فَدَخَلَ عَلَى عُمَرَ فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، وَرَحْمَةُ اللهِ، فَقَالَ عُمَرُ: «مَا شَأْنُكَ؟» فَقَالَ عُمَيْرٌ: مَا تَرَى مِنْ شَأْنِي أَلَسْتَ تَرَانِي صَحِيحَ الْبَدَنِ طَاهِرَ الدَّمِ مَعِي الدُّنْيَا أَجُرُّهَا بِقَرْنِهَا قَالَ: «وَمَا مَعَكَ؟» فَظَنَّ عُمَرُ أَنَّهُ قَدْ جَاءَ بِمَالٍ فَقَالَ: مَعِي جِرَابِي أجْعَلُ فِيهِ زَادِي وَقَصْعَتِي آكُلُ، وأغْتَسِلُ فِيهَا رَأْسِي وثِيابِي، وَإِداَوَتِي أَحْمِلُ فِيهَا وَضُوئِي وَشَرَابِي، وَعَنَزَتِي أَتَوَكَّأُ عَلَيْهَا وَأُجَاهِدُ بِهَا عَدُوًّا إِنْ عَرَضَنِي، فَوَاللهِ مَا الدُّنْيَا إِلَّا تَبَعٌ لِمَتَاعِي ، قَالَ عُمَرُ: «فَجِئْتَ تَمْشِي؟» قَالَ: نَعَمْ، قَالَ عُمَرُ: " أَمَا كَانَ لَكَ أَحَدٌ يَتَبَرَّعُ لَكَ بِدَابَّةٍ تَرْكَبُهَا؟ قَالَ: مَا فَعَلُوا وَمَا سَأَلْتُهُمْ ذَلِكَ قَالَ: بِئْسَ الْمُسْلِمُونَ خَرَجْتَ مِنْ عِنْدِهِمْ، فَقَالَ لَهُ عُمَيْرٌ: اتَّقِ اللهَ يَا عُمَرُ فَقَدْ نَهَاكَ اللهُ عَنِ الْغِيبَةِ، رَأَيْتُهُمْ يُصَلُّونَ صَلَاةَ الْغَدَاةِ، قَالَ: «فَأَيْنَ نَصِيبُكَ وَأَيٌّ شَيْءٍ صَنَعْتَ؟» فَقَالَ: وَمَا سُؤَالُكَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ؟ فَقَالَ عُمَرُ: «سُبْحَانَ اللهِ» فَقَالَ عُمَيْرٌ: أَمَا إِنِّي لَوْلَا أَنِّي أَخْشَى أَنْ أَغُمَّكَ مَا أَخْبَرْتُكَ، بَعَثْتَنِي حَتَّى أَتَيْتُ الْبَلَدَ فَجَمَعْتُ صُلَحَاءَ أَهْلِهَا فَوَلَّيْتُهُمْ جِبَايَةَ فَيْئِهِمْ حَتَّى إِذَا جَمَعُوا مِنْهُمْ وَضَعْتُهُ مَوَاضِعَهُ وَلَوْ نَالَكَ مِنْهُ شَيْءٌ لَأَتَيْتُكَ بِهِ، قَالَ: «فَمَا جِئْتَنَا بِشَيْءٍ؟» قَالَ: لَا، قَالَ: «أَجِدُوا لِعُمَيرٍ عَهْدًا» قَالَ: إِنَّ ذَلِكَ لَشَيْءٌ لَا عَمِلْتُ لَكَ وَلَا لِأَحَدٍ بَعْدَكَ، وَاللهِ مَا سَلِمْتُ بَلْ لَمْ أَسْلَمْ وَلَوْ قُلْتُ لِنَصْرَانِيٍّ أَيْ أَخْزَاكَ اللهُ، فَهَذَا مَا عَرَضَنِي لَهُ يَا عُمَرُ، وَإِنَّ أَشْقَى أَيَّامِي يَوْمَ حَلَفْتُ مَعَكَ يَا عُمَرُ، فَاسْتَأْذَنَهُ فَأَذِنَ لَهُ فَرَجَعَ إِلَى مَنْزِلِهِ قَالَ: وَبَيْنَهُ وَبَيْنَ الْمَدِينَةِ أَمْيَالٌ، فَقَالَ عُمَرُ حِينَ انْصَرَفَ عُمَيْرٌ: «مَا أُرَاهُ إِلَّا خانَنَا» ، فَبَعَثَ رَجُلًا يُقَالُ لَهُ: الْحَارِثُ وَأَعْطَاهُ مِائَةَ دِينَارٍ فَقَالَ لَهُ: «انْطَلِقْ حَتَّى تَنْزِلَ بِهِ كَأَنَّكَ ضَيْفٌ، فَإِنْ رَأَيْتَ أَثَرَ شَيْءٍ فَأَقْبِلْ، وَإِنْ رَأَيْتَ حَالًا شَدِيدَةً فَادْفَعْ إِلَيْهِ هَذِهِ الْمِائَةَ دِينَارٍ» فَانْطَلَقَ الْحَارِثُ، فَإِذَا هُوَ بِعُمَيرٍ جَالِسٌ يَفْلِي قَمِيصَهُ إِلَى جَنْبِ الْحَائِطِ، فَسَلَّمَ عَلَيْهِ الرَّجُلُ، فَقَالَ لَهُ عُمَيْرٌ: انْزِلْ رَحِمَكَ اللهُ فَنَزَلَ، ثُمَّ سَأَلَهُ فَقَالَ: مِنْ أَيْنَ جِئْتَ؟ قَالَ: مِنَ الْمَدِينَةِ، قَالَ: كَيْفَ تَرَكْتَ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ؟ قَالَ: صَالِحًا، قَالَ: كَيْفَ تَرَكْتَ الْمُسْلِمِينَ؟ قَالَ: صَالِحِينَ، قَالَ: كَيْفَ تَرَكْتَ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ؟ قَالَ: صَالِحًا، قَالَ: أَلَيْسَ يُقِيمُ الْحُدُودَ؟ قَالَ: بَلَى ضَرَبَ ابْنًا لَهُ أَتَى فَاحِشَةً فَمَاتَ مِنْ ضَرْبِهِ، فَقَالَ عُمَيْرٌ: اللهُمَّ أَعِنْ عُمَرَ فَإِنِّي لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا شَدِيدًا حُبُّهُ لَكَ، قَالَ: فَنَزَلَ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، وَلَيْسَ لَهُمْ إِلَّا قُرْصَةٌ مِنْ شَعِيرٍ كَانُوا يَخُصُّونَهُ بِهَا وَيَطْوُونَ حَتَّى أَتَاهُمُ الْجَهْدُ، فَقَالَ لَهُ عُمَيْرٌ: يَا هَذَا إِنَّكَ قَدْ أَجَعْتَنَا فَإِنْ رَأَيْتَ أَنْ تَتَحَوَّلَ عَنَّا فَافْعَلْ، قَالَ: فَأَخْرَجَ الدَّنَانِيرَ فَدَفَعَهَا إِلَيْهِ، فَقَالَ: بَعَثَ بِهَا إِلَيْكَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ فَاسْتَعِنْ بِهَا قَالَ: فَصَاحَ فَقَالَ: لَا حَاجَةَ لِي فِيهَا رُدَّهَا، فَقَالَتْ لَهُ امْرَأَتُهُ: إِنِ احْتَجْتَ إِلَيْهَا وَإِلَّا فَضَعْهَا مَوَاضِعَهَا، فَقَالَ عُمَيْرٌ: وَاللهِ مَا لِي شَيْءٌ أَجْعَلُهَا فِيهِ، فَشَقَّتْ امْرَأَتُهُ أَسْفَلَ دِرْعِهَا فَأَعْطَتْهُ خِرْقَةً فَجَعَلَهَا فِيهَا، ثُمَّ خَرَجَ فَقَسَمَهَا عَلَى أَبْنَاءِ الشُّهَدَاءِ وَالْفُقَرَاءِ، ثُمَّ رَجَعَ وَالرَّسُولُ يَظُنُّ أَنَّهُ يُعْطِيهِ مِنْهَا شَيْئًا فَقَالَ لَهُ عُمَيْرٌ: أَقْرِئْ مِنِّي لِأَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ السَّلَامَ، فَرَجَعَ الْحَارِثُ إِلَى عُمَرَ فَقَالَ: مَا رَأَيْتَ؟ فَقَالَ: رَأَيْتُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ حَالًا شَدِيدَةً قَالَ: «فَمَا صَنَعَ بِالدَّنَانِيرِ؟» قَالَ: لَا أَدْرِي قَالَ: وَكَتَبَ إِلَيْهِ عُمَرُ إِذَا جَاءَكَ كِتَابِي هَذَا فَلَا تَضَعْهُ مِنْ يَدِكَ حَتَّى تُقْبِلَ، فَأَقْبَلَ إِلَى عُمَرَ فَدَخَلَ عَلَيْهِ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: «مَا صَنَعْتَ بِالدَّنَانِيرِ؟» قَالَ: صَنَعْتُ مَا صَنَعْتُ فَمَا سُؤَالُكَ عَنْهَا، قَالَ: «أَنْشُدُ عَلَيْكَ لَتُخْبِرَنِّي مَا صَنَعْتَ بِهِ؟» قَالَ: قَدَّمْتُهَا لِنَفْسِي قَالَ: «رَحِمَكَ اللهُ فَأَمَرَ بِوَسْقٍ مِنْ طَعَامٍ وَثَوْبَينِ» فَقَالَ: أَمَّا الطَّعَامُ فَلَا حَاجَةَ لِي فِيهِ قَدْ تَرَكْتُ فِي الْمَنْزِلِ صَاعَيْنِ مِنْ شَعِيرٍ إِلَى أَنْ آكُلَ ذَلِكَ قَدْ جَاءَ اللهُ بالرِّزْقِ، وَلَمْ يَأْخُذِ الطَّعَامَ، وَأَمَّا الثَّوْبانِ فَقَالَ: إِنَّ امْرَأَةَ فُلَانٍ عَارِيَةٌ فَأَخَذَهُمَا وَرَجَعَ إِلَى مَنْزِلِهِ، فَلَمْ يَلْبَثْ أَنْ هَلَكَ رَحِمَهُ اللهُ، فَبَلَغَ عُمَرَ ذَلِكَ فَشَقَّ عَلَيْهِ وتَرَحَّمَ عَلَيْهِ فَخَرَجََ يَمْشِي وَمَعَهُ المَشَّاءُونَ إِلَى بَقِيعِ الْغَرْقَدِ فَقَالَ لِأَصْحَابِهِ: لَيَتَمَنَّى كُلُّ رَجُلٍ مِنْكُمْ أُمْنِيَّةً فَقَالَ رَجُلٌ: وَدِدْتُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ أَنَّ عِنْدِي مَالًا فَأُعْتِقَ كَذَا وَكَذَا لِوَجْهِ اللهِ، وَقَالَ آخَرُ: وَدِدْتُ لَو أَنَّ عِنْدِي مَالًا فَأُنْفِقَ فِي سَبِيلِ اللهِ، وَقَالَ آخَرُ: وَدِدْتُ أَنَّ لِي قُوَّةً فَأَمْتَحَ بِدَلْوٍ مِنْ زَمْزَمَ لِحُجَّاجِ بَيْتِ اللهِ فَقَالَ عُمَرُ: «وَدِدْتُ أَنَّ لِي رَجُلًا مِثْلَ عُمَيْرٍ أَسْتَعِينُ بِهِ فِي أَعْمَالِ الْمُسْلِمِينَ»…(سیدنا عمیر بن سعد رضی اللہ عنہ) حمص سے مدینہ آ پہنچے، ان کا رنگ زرد اور چہرہ گرد آلود ہو چکا تھا اور بال بڑھے ہوئے تھے۔ وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس حاضر ہوئے اور عرض کیا: السلام علیک اے امیر المومنین! اور اللہ کی رحمت ہو۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: تمہارا کیا حال ہے؟ عمیر نے کہا: آپ خود دیکھ رہے ہیں میرا کیا حال ہے، کیا آپ مجھے تندرست جسم اور پاک خون کے ساتھ نہیں دیکھتے؟ میرے ساتھ دنیا ہے، میں اسے اس کے سینگ سے کھینچ رہا ہوں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: تمہارے ساتھ کیا ہے؟ (سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے یہ سمجھا کہ وہ مال لے کر آئے ہیں)۔ عمیر نے کہا: میرے ساتھ میرا تھیلا ہے جس میں میں اپنا زادِ راہ رکھتا ہوں، میرا پیالہ ہے جس میں کھاتا ہوں اور اپنا سر اور کپڑے دھوتا ہوں، میری مشک ہے جس میں وضو اور پینے کا پانی لے جاتا ہوں، اور میری چھوٹی چھڑی ہے جس پر ٹیک لگاتا ہوں اور اگر کوئی دشمن سامنے آئے تو اس سے جہاد کرتا ہوں۔ اللہ کی قسم! دنیا تو بس میرے اسی سامان کے تابع ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: تو تم پیدل چل کر آئے ہو؟ عمیر نے کہا: جی ہاں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا وہاں کوئی ایسا نہ تھا جو تمہیں سواری کے لیے کوئی جانور دے دیتا؟ عمیر نے کہا: انہوں نے ایسا نہیں کیا اور میں نے ان سے مانگا بھی نہیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: کیسے برے مسلمان ہیں جن کے پاس سے تم نکلے ہو۔ عمیر نے کہا: اے عمر! اللہ سے ڈرو، اللہ نے تمہیں غیبت سے منع کیا ہے، میں نے انہیں فجر کی نماز پڑھتے دیکھا ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: تمہارا حصہ کہاں ہے اور تم نے کیا کیا؟ عمیر نے کہا: یہ آپ کا سوال کیسا ہے اے امیر المومنین؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: سبحان اللہ! عمیر نے کہا: اگر مجھے یہ خدشہ نہ ہوتا کہ آپ کو غمگین کر دوں گا تو میں آپ کو نہ بتاتا۔ آپ نے مجھے بھیجا، میں شہر پہنچا تو وہاں کے نیک لوگوں کو جمع کیا اور انہیں ان کے مالِ فَے کی جمع آوری پر مقرر کیا، جب انہوں نے جمع کر لیا تو میں نے اسے اس کے مصرف میں لگا دیا، اگر اس میں سے کچھ آپ کے لیے حاصل ہوتا تو ضرور لے آتا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: تو تم ہمارے لیے کچھ نہیں لائے؟ عمیر نے کہا: نہیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: عمیر کے لیے عہد نامہ تیار کرو۔ عمیر نے کہا: یہ تو ایسی چیز ہے کہ اب میں نہ آپ کے لیے کام کروں گا اور نہ آپ کے بعد کسی کے لیے۔ اللہ کی قسم! میں اس منصب میں محفوظ نہیں رہا بلکہ سلامت ہی نہیں رہا، حتیٰ کہ اگر میں کسی نصرانی سے بھی کہتا ”اللہ تجھے رسوا کرے“ تو یہی وہ چیز ہے جس کا مجھے سامنا ہوا اے عمر، اور میرے سب سے بدترین دن وہ تھے جب میں نے آپ کے ساتھ اس منصب کی قسم کھائی تھی اے عمر۔ پھر انہوں نے اجازت مانگی اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اجازت دے دی، تو وہ اپنے گھر واپس چلے گئے، اور ان کے گھر اور مدینہ کے درمیان کئی میل کا فاصلہ تھا۔ جب عمیر واپس چلے گئے تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میرا خیال ہے انہوں نے ہمارے ساتھ خیانت کی ہے۔ چنانچہ انہوں نے ایک شخص کو، جسے حارث کہا جاتا تھا، بھیجا اور اسے سو دینار دے کر کہا: جاؤ اور اس کے پاس اس طرح رہو جیسے کوئی مہمان رہتا ہے، اگر تمہیں مال کا کوئی نشان نظر آئے تو واپس آ کر بتانا، اور اگر تمہیں سخت تنگدستی نظر آئے تو یہ سو دینار اسے دے دینا۔ چنانچہ حارث روانہ ہوا، تو دیکھا کہ عمیر دیوار کے پاس بیٹھے اپنی قمیص میں سے جوئیں نکال رہے ہیں۔ اس شخص نے انہیں سلام کیا تو عمیر نے کہا: اترو، اللہ تم پر رحم فرمائے۔ چنانچہ وہ اترا، پھر عمیر نے اس سے پوچھا: کہاں سے آئے ہو؟ اس نے کہا: مدینہ سے۔ عمیر نے پوچھا: امیر المومنین کو کس حال میں چھوڑا؟ اس نے کہا: خیریت سے۔ عمیر نے پوچھا: مسلمانوں کو کس حال میں چھوڑا؟ اس نے کہا: خیریت سے۔ عمیر نے دوبارہ پوچھا: امیر المومنین کو کس حال میں چھوڑا؟ اس نے کہا: خیریت سے۔ عمیر نے پوچھا: کیا وہ حدود قائم نہیں کرتے؟ اس نے کہا: کیوں نہیں، انہوں نے اپنے ایک بیٹے کو، جس نے بدکاری کی تھی، سزا دی تو وہ اسی سزا سے مر گیا۔ عمیر نے کہا: اے اللہ! عمر کی مدد فرما، مجھے تو یہی معلوم ہے کہ ان کی تجھ سے محبت شدید ہے۔ راوی کہتے ہیں: وہ تین دن ٹھہرا، اور ان کے پاس صرف جَو کی ایک روٹی تھی جو وہ اس مہمان کے لیے مخصوص کر دیتے اور خود بھوکے رہتے، یہاں تک کہ انہیں سخت تنگی آ گئی۔ عمیر نے اس سے کہا: اے شخص! تم نے ہمیں بھوکا کر دیا ہے، اگر تم یہاں سے چلے جاؤ تو بہتر ہوگا۔ راوی کہتے ہیں: تو اس نے دینار نکال کر انہیں دیے اور کہا: امیر المومنین نے یہ آپ کے لیے بھیجے ہیں، ان سے مدد لیجیے۔ راوی کہتے ہیں: عمیر چیخ اٹھے اور کہا: مجھے ان کی کوئی حاجت نہیں، انہیں واپس لے جاؤ۔ ان کی بیوی نے کہا: اگر تمہیں ضرورت ہو تو رکھ لو، ورنہ انہیں ان کے مصرف میں لگا دو۔ عمیر نے کہا: اللہ کی قسم! میرے پاس تو کوئی ایسی چیز ہی نہیں جس میں انہیں رکھوں۔ چنانچہ ان کی بیوی نے اپنی قمیص کا نچلا حصہ پھاڑ کر ایک ٹکڑا انہیں دیا، انہوں نے دینار اس میں باندھ لیے، پھر نکل کر انہیں شہداء کے بچوں اور فقراء میں تقسیم کر دیا۔ پھر وہ واپس آئے تو وہ قاصد یہی سمجھ رہا تھا کہ وہ اسے بھی کچھ دیں گے، عمیر نے اس سے کہا: میری طرف سے امیر المومنین کو سلام پہنچا دینا۔ حارث سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس واپس آیا تو انہوں نے پوچھا: تم نے کیا دیکھا؟ اس نے کہا: اے امیر المومنین! میں نے سخت تنگدستی دیکھی۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: تو انہوں نے دیناروں کا کیا کیا؟ اس نے کہا: مجھے معلوم نہیں۔ راوی کہتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں لکھا: جب تمہیں میرا یہ خط ملے تو اسے اپنے ہاتھ سے نہ رکھنا یہاں تک کہ خود میرے پاس آ جاؤ۔ چنانچہ وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور ان کی خدمت میں حاضر ہوئے تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: تم نے دیناروں کا کیا کیا؟ عمیر نے کہا: جو کرنا تھا کر دیا، اب آپ کا اس بارے میں پوچھنا کیسا؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں تمہیں قسم دیتا ہوں کہ تم مجھے ضرور بتاؤ کہ تم نے ان کا کیا کیا؟ عمیر نے کہا: میں نے انہیں اپنے لیے آخرت میں آگے بھیج دیا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ تم پر رحم فرمائے، پھر انہوں نے ایک وسق غلہ اور دو کپڑوں کا حکم دیا۔ عمیر نے کہا: رہا غلہ تو مجھے اس کی ضرورت نہیں، میں نے گھر میں جو کے دو صاع چھوڑے ہیں جو مجھے اس وقت تک کافی ہیں جب تک اللہ مزید رزق نہ بھیج دے، اور غلہ نہ لیا۔ رہے دونوں کپڑے تو انہوں نے کہا: فلاں کی بیوی کے پاس پہننے کو کپڑے نہیں ہیں، چنانچہ وہ لے لیے اور اپنے گھر واپس چلے گئے۔ زیادہ عرصہ نہ گزرا تھا کہ ان کا انتقال ہو گیا، اللہ ان پر رحم فرمائے۔ یہ خبر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو پہنچی تو انہیں سخت رنج ہوا اور انہوں نے ان کے لیے رحمت کی دعا کی۔ وہ پیدل چلتے ہوئے اپنے ساتھیوں کے ساتھ بقیع الغرقد کی طرف نکلے اور اپنے ساتھیوں سے فرمایا: تم میں سے ہر ایک اپنی ایک تمنا بیان کرے۔ ایک شخص نے کہا: اے امیر المومنین! میری تمنا ہے کہ میرے پاس اتنا مال ہو کہ میں اللہ کی رضا کے لیے اتنے اتنے غلام آزاد کروں۔ دوسرے نے کہا: میری تمنا ہے کہ میرے پاس مال ہو تاکہ میں اسے اللہ کی راہ میں خرچ کروں۔ تیسرے نے کہا: میری تمنا ہے کہ مجھ میں طاقت ہو تاکہ میں زمزم سے ڈول کے ذریعے بیت اللہ کے حاجیوں کے لیے پانی نکالوں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میری تمنا ہے کہ میرے پاس عمیر جیسا ایک شخص ہو جس سے میں مسلمانوں کے کاموں میں مدد لوں۔