المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
عمير بن حبيب بن خماشة الأنصاري ثم الخطمي باب: سیدنا عمیر بن حبیب بن خماشہ انصاری، پھر خطمی، رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الضَّبِّيُّ، ثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ الْخَطْمِيِّ، أَنَّ جَدَّهُ عُمَيْرَ بْنَ حَبِيبِ بْنِ خُمَاشَةَ كَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ بَايَعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ احْتِلَامِهِ وَأَوْصَى وَلَدَهُ فَقَالَ: «إِيَّاكَ وَمُجَالَسَةَ السُّفَهَاءِ فَإِنَّ مُجالَسَتَهُمْ دَاءٌ، مَنْ تَحَلَّمَ عَنِ السَّفِيهِ يُسَرُّ بِحِلْمِهِ، وَمَنْ يُحِبَّهُ يَنْدَمْ، وَمَنْ لَا يُقِرَّ بِالْقَلِيلِ مِمَّا يَأْتِي بِهِ السَّفِيهُ يُقَرَّ بِالْكَثِيرِ، وَمَنْ يَصْبِرْ عَلَى مَا يَكْرَهُ يُدْرِكْ مَا يُحِبُّ، وَإِذَا أَرَادَ أَحَدُكُمْ أَنْ يَأْمُرَ بِمَعْرُوفٍ أَوْ يَنْهَى عَنْ مُنْكَرٍ، فَلْيُوَطِّنْ نَفْسَهُ بِالصَّبِرِ عَلَى الْأَذَى، ولْيَثِقْ بِالثَّوَابِ مِنَ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ، فَإِنَّهُ مَنْ يَثِقْ بِالثَّوَابِ مِنَ اللهِ لَا يَجِدُ مَسَّ الْأَذَى»ابوجعفر خطمی رحمہ اللہ اپنے دادا سیدنا عمیر بن حبیب بن خماشہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، جو صحابی تھے اور بلوغت کے وقت نبی کریم ﷺ سے بیعت کی تھی۔ انہوں نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا: ”بےوقوفوں کی مجلس سے بچو، کیونکہ ان کی مجلس ایک بیماری ہے۔ جو کوئی بےوقوف کے بارے میں تحمل سے کام لے وہ اپنے تحمل سے خوش ہوگا، اور جو اسے دوست بنائے وہ نادم ہوگا۔ اور جو بےوقوف کی طرف سے آنے والی تھوڑی سی بات کو برداشت نہ کرے، اسے زیادہ برداشت کرنا پڑے گا۔ اور جو ناپسندیدہ بات پر صبر کرے وہ اپنی پسندیدہ چیز پا لے گا۔ اور جب تم میں سے کوئی نیکی کا حکم دینا یا برائی سے روکنا چاہے تو وہ اپنے آپ کو تکلیف پر صبر کے لیے تیار کرے، اور اللہ عزوجل کے ثواب پر بھروسہ رکھے، کیونکہ جو اللہ کے ثواب پر بھروسہ رکھتا ہے وہ تکلیف کی چبھن محسوس نہیں کرتا۔“