حدیث نمبر: 14179
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ السَّفَطِيُّ، ثَنَا حَامِدُ بْنُ يَحْيَى، ثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ مُجَالِدِ بْنِ سَعِيدٍ بْنِ عُمَيْرٍ ذِي مُرَّانٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ عُمَيْرٍ قَالَ: جَاءَنَا كِتَابُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللهِ إِلَى عُمَيْرٍ ذِي مُرَّانٍ، وَمَنْ أَسْلَمَ مِنْ هَمْدَانَ» سَلَّامٌ عَلَيْكُمْ، فَإِنِّي أَحْمَدُ إِلَيْكُمُ اللهَ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ، أَمَّا بَعْدُ، فَإِنَّهُ بَلَغَنَا إِسْلَامُكُمْ مَقْدَمَنَا مِنْ أَرْضِ الرُّومِ فَأَبْشِرُوا، فَإِنَّ اللهَ قَدْ هَدَاكُمْ بِهِدايَتِهِ، وَإِنَّكُمْ إِذَا شَهِدْتُمْ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ، وأَقَمْتُمُ الصَّلَاةَ، وأعْطَيْتُمُ الزَّكَاةَ، فَإِنَّ لَكُمْ ذِمَّةَ اللهِ وَذِمَّةَ رَسُولِهِ عَلَى دِمَائِكُمْ وَعَلَى أَمْوَالِكُمْ وَعَلَى أَرْضِ أَلْيُونَ الَّتِي أَسْلَمْتُمْ عَلَيْهَا سَهْلِهَا وجَبَلِهَا وَعُيُونِهَا ومَرْعَاهَا غَيْرَ مَظْلُومِينَ، وَلَا مُضَيَّقٍ عَلَيْهِمْ، فَإِنَّ الصَّدَقَةَ لَا تَحِلُّ لِمُحَمَّدٍ وَلَا لِأَهْلِ بَيْتِهِ، وَإِنَّ مَالِكَ بْنَ مُرَارَةَ الرَّهَاوِيَّ قَدْ حَفِظَ الْغَيْبَ وَأَدَّى الْأَمَانَةَ وَبَلَّغَ الرِّسَالَةَ، فَآمُرُكَ بِهِ يَا ذَا مُرَّانٍ خَيْرًا فَإِنَّهُ مَنْظُورٌ إِلَيْهِ فِي قَوْمِهِ ولْيُحْبِبْكُمْ رَبُّكُمْ "
ترجمہ

سیدنا عمیر ذو مران ہمدانی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں: ہمارے پاس رسول اللہ ﷺ کا خط آیا: ”اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان، رحم کرنے والا ہے۔ محمد، اللہ کے رسول کی طرف سے، عمیر ذو مران اور ہمدان کے جو لوگ اسلام لائے ہیں ان کی طرف۔ تم پر سلامتی ہو۔ میں تمہارے سامنے اس اللہ کی حمد بیان کرتا ہوں جس کے سوا کوئی سچا معبود نہیں۔ اما بعد! ہمیں تمہارے اسلام لانے کی خبر روم کی سرزمین سے واپسی پر ملی، سو خوش ہو جاؤ، کیونکہ اللہ نے تمہیں اپنی ہدایت سے نواز دیا ہے۔ اور جب تم گواہی دو کہ اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں اور محمد اللہ کے رسول ہیں، اور نماز قائم کرو اور زکوٰۃ دو، تو تمہارے خون اور تمہارے مال پر اللہ اور اس کے رسول کی ذمہ داری (حفاظت) ہے، اور اَلیون کی اس زمین پر بھی، جس پر تم نے اسلام قبول کیا ہے، اس کے میدان، پہاڑ، چشمے اور چراگاہیں سب پر، بغیر کسی ظلم اور تنگی کے۔ اور صدقہ محمد کے لیے اور نہ ان کے اہلِ بیت کے لیے جائز ہے۔ اور مالک بن مرارہ رَہاوی نے راز کی حفاظت کی، امانت ادا کی اور پیغام پہنچایا، سو اے ذو مران! میں تمہیں اس کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کا حکم دیتا ہوں، کیونکہ اپنی قوم میں اس کی طرف نگاہ اٹھا کر دیکھا جاتا ہے، اور تمہارا رب تم سے محبت رکھے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 14179
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 17، صفحہ 50، حدیث 107