المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
عمير بن قتادة الليثي أبو عبيد وهو عمير بن قتادة بن سعيد بن عامر بن جدع بن ليث بن بكر بن عبد مناة بن كنانة بن خزيمة بن مدركة بن إلياس بن مضر بن نزار بن معد بن عدنان باب: سیدنا عمیر بن قتادہ لیثی ابوعبید رضی اللہ عنہ، وہ عمیر بن قتادہ بن سعید بن عامر بن جدع بن لیث بن بکر بن عبدمناہ بن کنانہ بن خزیمہ بن مدرکہ بن الیاس بن مضر بن نزار بن معد بن عدنان ہیں
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ، ثَنَا عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ الْحَرَّانِيُّ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْحَرَّانِيُّ، عَنْ بَكْرِ بْنِ خُنَيْسٍ، عَنْ أَبِي بَدْرٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: كَانَتْ فِي نَفْسِي مَسْأَلَةٌ قَدْ أَحْزَنَتْنِي لَمْ أسْأَلْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْهَا، وَلَمْ أسْمَعْ أَحَدًا يَسْأَلُهُ عَنْهَا، فَكُنْتُ أَتَحَيَّنُهُ فَدَخَلْتُ ذَاتَ يَوْمٍ وَهُوَ يَتَوَضَّأُ فَوَافَقْتُهُ عَلَى حَالَيْنِ كُنْتُ أَُحِبُّ أَنْ أُوَافِقَهُ عَلَيْهِمَا، وَجَدْتُهُ فَارِغًا طَيِّبَ النَّفْسِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، ائْذَنْ لِي فَأَسْأَلَكَ، قَالَ: «نَعَمْ، سَلْ عَمَّا بَدَا لَكَ» قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، مَا الْإِيمَانُ؟ قَالَ: «السَّماحُة وَالصَّبْرُ» ، قُلْتُ: وَأَيُّ الْمُؤْمِنِينَ أَفْضَلُهُمْ إِيمَانًا؟ قَالَ: «أَحْسَنُهُمْ خُلُقًا» ، قُلْتُ: فَأَيُّ الْمُسْلِمِينَ أَفْضَلُ إِسْلَامًا؟ قَالَ: «مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ يَدِهِ وَلِسَانِهِ» قُلْتُ: فَأَيُّ الْجِهَادِ أَفْضَلُ؟ فَطَأْطَأَ رَأْسَهُ فَصَمَتَ طَوِيلًا حَتَّى خِفْتُ أَنْ أَكُونَ قَدْ شَقَقْتُ عَلَيْهِ وتَمَنَّيْتُ أَنْ لَمْ أَكُنْ سَأَلْتُهُ وَقَدْ سَمِعْتُهُ بِالْأَمْسِ يَقُولُ: «إِنَّ أَعْظَمَ النَّاسِ فِي الْمُسْلِمِينَ جُرْمًا لَمَنْ سَأَلَ عَنْ شَيْءٍ لَمْ يُحَرَّمْ عَلَيْهِمْ فَحُرِّمَ مِنْ أَجْلِ مَسْأَلَتِهِ» فَقُلْتُ: أَعُوذُ بِاللهِ مِنْ غَضِبِ اللهِ وَغَضِبِ رَسُولِهِ فَرَفَعَ رَأْسَهُ فَقَالَ: «كَيْفَ قُلْتَ؟» : قُلْتُ: أَيُّ الْجِهَادِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: «كَلِمَةُ عَدْلٍ عِنْدَ إِمَامٍ جَائِرٍ»سیدنا قتادہ لیثی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں: میں رسول اللہ ﷺ کا مناسب وقت تلاش کرتا رہتا تھا، ایک دن میں حاضر ہوا تو آپ ﷺ وضو فرما رہے تھے، مجھے آپ ایسی دو حالتوں میں ملے جن میں ملنا مجھے پسند تھا، میں نے آپ کو فارغ اور خوش مزاج پایا۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے اجازت دیجیے کہ میں آپ سے کچھ پوچھوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں، جو چاہو پوچھو۔“ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ایمان کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”سخاوت اور صبر۔“ میں نے پوچھا: مومنوں میں سب سے کامل ایمان والا کون ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جس کے اخلاق سب سے اچھے ہوں۔“ میں نے پوچھا: مسلمانوں میں افضل ترین مسلمان کون ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔“ میں نے پوچھا: کون سا جہاد افضل ہے؟ آپ ﷺ نے اپنا سر جھکا لیا اور کافی دیر خاموش رہے، یہاں تک کہ مجھے خطرہ محسوس ہوا کہ میں نے آپ پر بوجھ ڈال دیا ہے، اور میں نے تمنا کی کہ کاش میں نے یہ سوال نہ پوچھا ہوتا، جبکہ میں نے کل ہی آپ کو یہ فرماتے سنا تھا: ”مسلمانوں میں سب سے بڑا مجرم وہ ہے جو کسی ایسی چیز کے بارے میں پوچھے جو ان پر حرام نہ ہو، پھر اس کے سوال کی وجہ سے وہ حرام کر دی جائے۔“ چنانچہ میں نے کہا: میں اللہ اور اس کے رسول کے غصے سے پناہ مانگتا ہوں۔ آپ ﷺ نے اپنا سر اٹھایا اور فرمایا: ”تم نے کیا کہا تھا؟“ میں نے عرض کیا: کون سا جہاد افضل ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ظالم حکمران کے سامنے انصاف کی بات کہنا۔“