حدیث نمبر: 14173
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ الْمَكِّيُّ، حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَزْرَقُ، ثَنَا حَرْبُ بْنُ شَدَّادٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ سِنَانٍ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ عُبَيْدُ بْنُ عُمَيْرٍ اللَّيْثِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ: «إِنَّ أَوْلِيَاءَ اللهِ الْمُصَلُّونَ وَمَنْ يُقِيمُ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ الَّتِي كَتَبَهُنَّ اللهُ عَلَى عِبَادِهِ، وَيَصُومُ رَمَضَانَ وَيَحْتَسِبُ صَوْمَهُ وَيُؤْتِي الزَّكَاةَ طَيِّبَةً بِهَا نَفْسُهُ يَحْتَسِبُهَا، وَيَجْتَنِبُ الْكَبَائِرَ الَّتِي نَهَى الله عَنْهَا» فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِهِ: يَا رَسُولَ اللهِ، وَكَمِ الْكَبَائِرُ؟ قَالَ: «هِيَ تِسْعٌ أَعْظَمُهُنَّ الْإِشْرَاكُ بِاللهِ، وَقَتْلُ الْمُؤْمِنِ بِغَيْرِ حَقٍّ، وَالْفِرَارُ يَوْمَ الزَّحْفِ، وَقَذْفُ الْمُحْصَنَةِ، وَالسِّحْرُ، وَأَكْلُ مَالِ الْيَتِيمِ، وَأَكْلُ الرِّبَا، وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ الْمُسْلِمَيْنِ، وَإِحَلَالُ الْبَيْتِ الْحَرَامِ قِبْلَتِكُمْ أَحْيَاءً وأمْوَاتًا، لَا يَمُوتُ رَجُلٌ لَمْ يَعْمَلْ هَذِهِ الْكَبَائِرَ، وَيُقِيمُ الصَّلَاةَ، وَيُؤْتِي الزَّكَاةَ إِلَّا رَافَقَ مُحَمَّدًا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بُحْبُوحَةِ جَنَّةٍ أَبْوَابُهَا مَصَارِيعُ الذَّهَبِ»
ترجمہ

سیدنا قتادہ لیثی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حجۃ الوداع کے موقع پر فرمایا: ”اللہ کے دوست وہ نمازی ہیں جو ان پانچ نمازوں کو قائم کرتے ہیں جو اللہ نے اپنے بندوں پر فرض کی ہیں، رمضان کے روزے رکھتے ہیں اور اجر کی نیت سے رکھتے ہیں، پاکیزہ دل سے اجر کی نیت سے زکوٰۃ دیتے ہیں، اور ان کبیرہ گناہوں سے بچتے ہیں جن سے اللہ نے منع فرمایا ہے۔“ آپ کے ایک صحابی نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کبیرہ گناہ کتنے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ نو ہیں، ان میں سب سے بڑا اللہ کے ساتھ شرک کرنا ہے، پھر کسی مومن کو ناحق قتل کرنا، جنگ کے دن میدان سے بھاگ جانا، پاکدامن عورت پر تہمت لگانا، جادو کرنا، یتیم کا مال کھانا، سود کھانا، مسلمان والدین کی نافرمانی کرنا، اور بیت اللہ کو، جو تمہارا قبلہ ہے، زندوں اور مردوں کے لیے، حلال (بے حرمت) سمجھنا۔ جو شخص ان کبیرہ گناہوں پر عمل نہ کرے، نماز قائم کرے اور زکوٰۃ دے، اس کی موت جب بھی ہوگی وہ محمد ﷺ کے ساتھ ایسی جنت کے درمیانی حصے میں ٹھہرے گا جس کے دروازے سونے کے کواڑ والے ہوں گے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 14173
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 17، صفحہ 47، حدیث 101