المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
ما أسند عمرو بن معدي كرب باب: سیدنا عمرو بن معدی کرب رضی اللہ عنہ کی مرویات
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ الصَّنْعَانِيُّ، ثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ عَمْرِو بْنِ سَمَرٍ، عَنْ أَبِي طَوْقٍ شَرَاحِيلَ بْنِ الْقَعْقَاعِ قَالَ: سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ مَعْدِي كَرِبَ يُخْبِرُ يَقُولُ: الْحَمْدُ لِلَّهِ أَنْ كُنَّا مُنْذُ قَرِيبٍ إِذَا حَجَجْنَا لَنَقُولُ: "
[البحر الرجز]
لَبَّيْكَ تَعْظِيمًا إِلَيْكَ عُذْرَا ... هَذِي زَبِيدٌ قَدْ أَتَتْكَ قَصْرَا
تَقْطَعُ خَبْتًا وَجِبَالًا وَعْرَا ... تَغْدُو بِهَا مُضْمِرَاتٍ شَزْرَا
قَدْ تَرَكُوا الْأَوْثَانَ خِلْوًا صَفَرَا
فَنَحْنُ نَقُولُ الْيَوْمَ كَمَا عَلَّمَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَبَّيْكَ اللهُمَّ لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكُ لَا شَرِيكَ لَكَ» وَكُنَّا نَمْنَعُ النَّاسَ يَقِفُوا بِعَرَفَاتٍ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَأَمَرَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَحُولَ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ بَطْنِ عَرَنَةَ فَإِنَّمَا كَانَ مَوْقِفُهُمْ بِبَطِْنِ مُحَسِّرٍ عَشِيَّةَ عَرَفَةَ فَرَقًا أَنْ تَخْطَفَهُمُ الْجِنُّ، وَقَالَ لَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّمَا هُمْ إِخْوَانُكُمْ إِذَا أَسْلَمُوا»ابوطوق شراحیل بن قعقاع رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا عمرو بن معدی کرب رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے سنا، وہ کہتے تھے: اللہ کا شکر ہے کہ کچھ ہی عرصہ پہلے جب ہم حج کرتے تھے تو یہ کہا کرتے تھے: 'حاضر ہوں، تیری بزرگی کی خاطر، معذرت کے ساتھ، یہ زبید (قبیلہ) مختصر راستے سے تیرے پاس آ پہنچا ہے، وہ بیابان اور دشوار گزار پہاڑوں کو کاٹتی ہے، صبح سویرے ہی سدھائے ہوئے تیز رفتار گھوڑے اسے لے کر ترچھے چلتے ہیں، انہوں نے بتوں کو خالی اور ویران چھوڑ دیا ہے۔' سو آج ہم وہی کہتے ہیں جو رسول اللہ ﷺ نے ہمیں سکھایا: ”حاضر ہوں اے اللہ! حاضر ہوں، حاضر ہوں، تیرا کوئی شریک نہیں، حاضر ہوں، بےشک ہر تعریف اور ہر نعمت تیری ہی ہے اور بادشاہت بھی تیری ہی ہے، تیرا کوئی شریک نہیں۔“ اور ہم زمانہ جاہلیت میں لوگوں کو عرفات میں ٹھہرنے سے روکا کرتے تھے، تو رسول اللہ ﷺ نے ہمیں حکم دیا کہ ہم ان کے اور بطن عرنہ کے درمیان حائل ہو جائیں، پہلے ان کا ٹھہرنے کا مقام عرفہ کی شام کو بطن محسر میں ہوتا تھا، اس خوف سے کہ کہیں جن انہیں اچک نہ لیں۔ اور رسول اللہ ﷺ نے ہم سے فرمایا: ”جب وہ مسلمان ہو جائیں تو وہ تمہارے بھائی ہی ہیں۔“