المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
عمرو بن الفغواء الخزاعي باب: سیدنا عمرو بن فغواء خزاعی رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَيُّوبَ، صَاحِبُ الْمَغَازِي، ثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ عِيسَى بْنِ مَعْمَرٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْفَغْوَاءِ الْخُزَاعِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: دَعَانِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ أَرَادَ أَنْ يَبْعَثَنِي بِمَالٍ إِلَى أَبِي سُفْيَانَ يَقْسِمُهُ فِي قُرَيْشٍ بِمَكَّةَ بَعْدَ الْفَتْحِ فَقَالَ: الْتَمِسْ صَاحِبًا فَجَاءَنِي عَمْرُو بْنُ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيُّ فَقَالَ: بَلَغَنِي أَنَّكَ تُرِيدُ الْخُرُوجَ وَتَلْتَمِسُ صَاحِبًا وَأَنَا صَاحِبُكَ، وَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا وَجَدْتَ صَاحِبًا فَائْذَنِّي» ، فَأَذَنْتُهُ فَقَالَ: «مَنْ؟» فَقُلْتُ: عَمْرُو بْنُ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيُّ فَقَالَ: " إِذَا هَبَطَ بِلَادَ قَوْمِهِ فَاحْذَرُوهُ، فَإِنَّهُ قَدْ قَالَ الْقَائِلُ: أَخُوكَ الْبَكْرِيُّ فَلَا تَأْمَنْهُ "، فَخَرَجْنَا حَتَّى جِئْتُ الْأَبْواءَ قَالَ: إِنِّي أُرِيدُ حَاجَةً إِلَى قَوْمِي فَتَلَبَّثْ لِي، قُلْتُ: رَاشِدًا فَلَمَّا وَلَّى ذَكَرْتُ قَوْلَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَشَدَدْتُ عَلَى بَعِيرِي، ثُمَّ خَرَجْتُ أُوضِعُهُ حَتَّى إِذَا كُنْتُ بِالعَصَافِيرِ إِذَا هُوَ يُعَارِضُنِي فِي رَهْطٍ قَالَ: وَأَوْضَعْتُ فَسَمِعْتُهُ فَلَمَّا رَآنِي قَدْ فُتُّهُ انْصَرَفُوا وَجَاءَنِي فَقَالَ: كَانَتْ لِي حَاجَةٌ إِلَى قَوْمِي قُلْتُ: أَجَلْ وَمَضَيْنَا حَتَّى قَدِمْنَا مَكَّةَ فَدَفَعْتُ الْمَالَ إِلَى أَبِي سُفْيَانَسیدنا عمرو بن فغواء خزاعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: … فتح (مکہ) کے بعد آپ ﷺ نے فرمایا: کوئی ساتھی تلاش کر لو۔ چنانچہ عمرو بن امیہ ضمری میرے پاس آئے اور کہا: مجھے معلوم ہوا ہے کہ تم نکلنا چاہتے ہو اور ساتھی تلاش کر رہے ہو، میں تمہارا ساتھی بنتا ہوں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا: ”جب تمہیں کوئی ساتھی مل جائے تو مجھے بتانا۔“ چنانچہ میں نے آپ ﷺ کو بتایا تو آپ ﷺ نے پوچھا: ”کون؟“ میں نے عرض کیا: عمرو بن امیہ ضمری۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب وہ اپنی قوم کی سرزمین میں اترے تو اس سے ہوشیار رہنا، کیونکہ کہنے والے نے کہا ہے: تیرا بکری قبیلے کا بھائی، اس پر بھروسہ نہ کر۔“ چنانچہ ہم روانہ ہوئے، یہاں تک کہ میں ابواء پہنچا تو اس نے کہا: مجھے اپنی قوم سے ایک کام ہے، تم میرا انتظار کرنا۔ میں نے کہا: ٹھیک ہے۔ جب وہ مڑ گیا تو مجھے رسول اللہ ﷺ کی بات یاد آئی، چنانچہ میں نے اپنے اونٹ کا سامان کس لیا، پھر اسے تیز دوڑاتا ہوا نکلا، یہاں تک کہ جب میں عصافیر کے مقام پر پہنچا تو وہ اپنے ایک گروہ کے ساتھ میرا راستہ روکنے کی کوشش میں تھا۔ راوی کہتے ہیں: میں نے (اونٹ کو) تیز دوڑایا اور اسے (اپنے پیچھے) سنا، جب اس نے دیکھا کہ میں اس سے آگے نکل گیا ہوں تو وہ لوٹ گئے۔ پھر وہ میرے پاس آیا اور کہا: مجھے اپنی قوم سے ایک کام تھا۔ میں نے کہا: ٹھیک ہے۔ پھر ہم چلتے رہے یہاں تک کہ مکہ پہنچے تو میں نے وہ مال ابوسفیان کے حوالے کر دیا۔