المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
عمرو بن حنة الأنصاري باب: سیدنا عمرو بن حنہ انصاری رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ جَعْفَرٍ السَّدُوسِيُّ، ثَنَا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، ثَنَا قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ يُقَالُ لَهُ: عَمْرُو بْنُ حَنَّةَ وَكَانَ يَرْقِي مِنَ الْحَيَّةِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّكَ نَهَيْتَ عَنِ الرُّقَى وَأَنَا أَرْقِي مِنَ الْحَيَّةِ قَالَ: «فَقُصَّهَا عَلَيَّ» ، فَقَصَصْتُهَا عَلَيْهِ فَقَالَ: «لَا بَأْسَ بِهَذِهِ، هَذِهِ مَوَاثِيقُ» قَالَ: وَجَاءَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ وَكَانَ يَرقِي مِنَ الْعَقْرَبِ فَقَالَ: «مَنِ اسْتَطَاعَ أَنْ يَنْفَعَ أَخَاهُ فَلْيَفْعَلْ»سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں: انصار میں سے ایک شخص، جسے عمرو بن حنہ کہا جاتا تھا اور وہ سانپ کے کاٹے کا دم کیا کرتے تھے، رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ نے دم کرنے سے منع فرمایا ہے، اور میں سانپ کے کاٹے کا دم کرتا ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے وہ (دم کے الفاظ) سنا۔“ میں نے وہ آپ کو سنائے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس میں کوئی حرج نہیں، یہ تو (اللہ کے) عہد و پیمان ہیں۔“ راوی کہتے ہیں: پھر انصار میں سے ایک اور شخص آیا جو بچھو کے کاٹے کا دم کیا کرتا تھا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو کوئی اپنے بھائی کو فائدہ پہنچانے کی طاقت رکھتا ہو وہ ایسا کرے۔“