حدیث نمبر: 14075
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ الصَّنْعَانِيُّ، ثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، ثَنَا كَثِيرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ: كُنَّا قُعُودًا حَوْلَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَسْجِدِهِ بِالْمَدِينَةِ، فَجَاءَهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ بِالْوَحْيِ، فَتَغَشَّى رِدَاءَهُ، فَمَكَثَ طَوِيلًا حَتَّى سُرِّيَ عَنْهُ وَكَشَفَ رِدَاءَهُ، فَإِذَا هُوَ تَعَرَّقَ عَرَقًا شَدِيدًا، وَإِذَا هُوَ قَابِضٌ عَلَى شَيْءٍ فَقَالَ: «أَيُّكُمْ يَعْرِفُ مَا يَخْرُجُ مِنَ النَّخْلِ؟» فَقَالَ الْأَنْصَارُ: نَحْنُ يَا رَسُولَ اللهِ، بِأَبِينَا أَنْتَ وَأُمِّنَا، لَيْسَ شَيْءٌ يَخْرُجُ مِنَ النَّخْلِ إِلَّا نَحْنُ نَعْرِفُهُ، نَحْنُ أَصْحَابُ نَخْلٍ، ثُمَّ فَتَحَ يَدَهُ فَإِذَا فِيهَا نَوًى فَقَالَ: «مَا هَذَا؟» فَقَالُوا: هَذَا يَا رَسُولَ اللهِ نَوًى، قَالَ: «نَوَى أَيِّ شَيْءٍ؟» قَالُوا: نَوَى سَنَةٍ، قَالَ: «صَدَقْتُمْ، جَاءَكُمْ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ يَتَعَاهَدُ دِينَكُمْ، لَتَسْلُكُنَّ سُنَنَ مَنْ قَبْلَكُمْ حَذْوَ النَّعْلِ بِالنَّعْلِ، وَلَتَأْخُذُنَّ بِمِثْلِِ أَخْذِهُمْ إِنْ شِبْرًا فَشِبْرًا، وَإِنْ ذِرَاعًا فَذِرَاعًا، وَإِنْ بَاعًا فَبَاعًا، حَتَّى لَو دَخَلُوا فِي جُحْرِ ضَبٍّ دَخَلْتُمْ فِيهِ، إِلَّا أَنَّ بَنِي إِسْرَائِيلَ افْتَرَقَتْ عَلَى مُوسَى سَبْعِينَ فِرْقَةً، كُلُّهَا ضَالَّةٌ إِلَّا فِرْقَةٌ وَاحِدَةٌ، الْإِسْلَامُ وَجَمَاعَتُهُمْ، ثُمَّ إِنَّهَا افْتَرَقَتْ عَلَى عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ عَلَى إِحْدَى وَسَبْعِينَ فِرْقَةً، كُلُّهَا ضَالَّةٌ إِلَّا وَاحِدَةٌ، الْإِسْلَامُ وَجَمَاعَتُهُمْ، ثُمَّ إِنَّكُمْ تَكُونُونَ عَلَى اثْنَتَيْنِ وَسَبْعِينَ فِرْقَةً كُلُّهَا فِي النَّارِ إِلَّا وَاحِدَةٌ، الْإِسْلَامُ وَجَمَاعَتُهُمْ»
ترجمہ

سیدنا عمرو بن عوف بن ملحہ مزنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: … پھر جبریل علیہ السلام آپ ﷺ کے پاس وحی لے کر آئے، تو آپ ﷺ نے اپنی چادر اوڑھ لی، آپ ﷺ کافی دیر اسی حالت میں رہے یہاں تک کہ (وحی کی کیفیت) دور ہوئی، آپ ﷺ نے اپنی چادر ہٹائی تو آپ کو شدید پسینہ آیا ہوا تھا، اور آپ کے ہاتھ میں کوئی چیز تھی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم میں سے کون جانتا ہے کہ کھجور کے درخت سے کیا نکلتا ہے؟“ انصار نے عرض کیا: ہم جانتے ہیں یا رسول اللہ، ہمارے ماں باپ آپ پر قربان، کھجور کے درخت سے نکلنے والی کوئی بھی چیز ایسی نہیں جسے ہم نہ پہچانتے ہوں، ہم کھجوروں والے لوگ ہیں۔ پھر آپ ﷺ نے اپنا ہاتھ کھولا تو اس میں کھجور کی گٹھلیاں تھیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ کیا ہے؟“ عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ گٹھلیاں ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کس چیز کی گٹھلیاں؟“ عرض کیا: ایک سال (پرانی کھجور) کی گٹھلیاں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم نے سچ کہا، تمہارے پاس جبریل علیہ السلام تمہارے دین کی نگہبانی کے لیے آئے تھے (اور بتایا کہ): تم ضرور اپنے سے پہلے لوگوں کے راستے پر اسی طرح چلو گے جیسے ایک جوتا دوسرے جوتے کے برابر ہوتا ہے، اور تم ویسا ہی اختیار کرو گے جیسا انہوں نے کیا، بالشت بھر تو بالشت بھر، ہاتھ بھر تو ہاتھ بھر، اور اگر وہ کسی گوہ کے بل میں گھسے تھے تو تم بھی اس میں گھس جاؤ گے۔ البتہ بنی اسرائیل موسیٰ علیہ السلام (کی امت) پر ستر فرقوں میں بٹ گئے تھے، وہ سب گمراہ تھے سوائے ایک فرقے کے، یعنی اسلام اور ان کی جماعت۔ پھر وہ عیسیٰ ابن مریم علیہما السلام (کی امت) پر اکہتر فرقوں میں بٹ گئے، وہ سب گمراہ تھے سوائے ایک کے، یعنی اسلام اور ان کی جماعت۔ پھر تم (اس امت) بہتّر فرقوں میں بٹ جاؤ گے، وہ سب جہنم میں جائیں گے سوائے ایک کے، یعنی اسلام اور ان کی جماعت۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 14075
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 17، صفحہ 13، حدیث 3