المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
قيس بن عباد، عن عبد الله بن سلام باب: قیس بن عباد کی سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ حَمَّادٍ الْحَضْرَمِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، ح وَحَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَائِلَةَ الْأَصْبَهَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَزْهَرُ، كِلَاهُمَا عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ قَيْسِ بْنِ عَبَّادٍ قَالَ: دَخَلْتُ مَسْجِدَ الْمَدِينَةِ، فَجَاءَ رَجُلٌ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ فَتَجَوَّزَ فِيهِمَا، عَلَيْهِ أَثَرٌ مِنَ الْخُشُوعِ، فَقَالَ رَجُلٌ: مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَلْيَنْظُرْ إِلَى هَذَا، فَاتَّبَعْتُهُ فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ: سُبْحَانَ اللهِ مَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ أَنْ يَقُولَ مَا لَا يَعْلَمُ، وَسَأُحَدِّثُكَ لِمَ ذَلِكَ؟ إِنِّي رَأَيْتُ رُؤْيَا فَقَصَصْتُهَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، رَأَيْتُ كَأَنِّي فِي رَوْضَةٍ، فَذَكَرَ مِنْ سَعَتِهَا، وَحُسْنِهَا، وَخَضَرِهَا، فِي وَسَطِهَا عَمُودٌ مِنْ حَدِيدٍ أَسْفَلُهُ فِي الْأَرْضِ وَأَعْلَاهُ فِي السَّمَاءِ، فِي رَأْسِهِ عُرْوَةٌ، فَقَالَ لِي: اصْعَدْ، فَقُلْتُ: لَا أَسْتَطِيعُ، فَأَتَانِي مَنْصِبٌ، فَقَالَ بِثِيَابِي أَيْ مِنْ خَلْقِي فَضَرَبَ فِي أَعْلَاهَا، فَقَالَ: اسْتَمْسِكْ فَاسْتَيْقَظْتُ، وَإِنَّهَا لَفِي يَدَيَّ، فَقَصَصْتُهَا عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «الرَّوْضَةُ الْإِسْلَامُ، وَالْعَمُودُ عَمُودُ الْإِسْلَامِ، وَالْعُرْوُةُ الْوُثْقَى، فَأَنْتَ عَلَى الْإِسْلَامِ» . فَإِذَا هُوَ عَبْدُ اللهِ بْنُ سَلَامٍقیس بن عباد رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں مدینہ کی مسجد میں داخل ہوا، تو ایک شخص آیا اور دو رکعتیں ہلکی پڑھیں، ان پر خشوع کے آثار تھے۔ ایک آدمی نے کہا: جسے یہ اچھا لگے کہ وہ کسی جنتی آدمی کو دیکھے تو وہ اس شخص کو دیکھ لے۔ میں ان کے پیچھے گیا اور انہیں یہ بات بتائی، تو انہوں نے کہا: سبحان اللہ! کسی کو ایسی بات نہیں کہنی چاہیے جس کا اسے علم نہ ہو، اور میں تمہیں بتاتا ہوں کیوں یہ بات کہی گئی: میں نے ایک خواب دیکھا تھا اور وہ نبی کریم ﷺ سے بیان کیا تھا، میں نے دیکھا کہ گویا میں ایک باغیچے میں ہوں، پھر انہوں نے اس کی وسعت، خوبصورتی اور سرسبزی کا ذکر کیا، اس کے درمیان میں لوہے کا ایک ستون تھا جس کا نچلا حصہ زمین میں اور اوپری حصہ آسمان میں تھا، اس کے سرے پر ایک حلقہ تھا۔ مجھ سے کہا گیا: چڑھو۔ میں نے کہا: میں نہیں چڑھ سکتا۔ پھر میرے پاس ایک مددگار آیا، اس نے میرے کپڑوں سے - یعنی میرے پیچھے سے - پکڑا اور مجھے اوپر کی طرف دھکیلا، پھر کہا: مضبوطی سے پکڑ لو۔ میں بیدار ہوا تو حلقہ میرے ہاتھوں ہی میں تھا۔ میں نے یہ خواب رسول اللہ ﷺ سے بیان کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ باغیچہ اسلام ہے، اور وہ ستون اسلام کا ستون ہے، اور وہ حلقہ عروۃ الوثقیٰ ہے، تو تم اسلام پر قائم ہو۔“ اور وہ شخص عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ تھے۔