المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
قيس بن عباد، عن عبد الله بن سلام باب: قیس بن عباد کی سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ جَبَلَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرَمِيُّ بْنُ عُمَارَةَ، عَنْ قُرَّةَ بْنِ خَالِدٍ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، قَالَ: قَالَ قَيْسُ بْنُ عَبَّادٍ: كُنْتُ فِي صَلَقَةٍ فِيهَا سَعْدُ بْنُ مَالِكٍ وَابْنُ عُمَرَ، فَمَرَّ عَبْدُ اللهِ بْنُ سَلَامٍ، فَقَالُوا: هَذَا رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ، فَتَبِعْتُهُ، فَقُلْتُ لَهُ: إِنَّهُمْ قَالُوا: كَذَا كَذَا، قَالَ: سُبْحَانَ اللهِ مَا يَنْبَغِي لَهُمْ أَنْ يَقُولُوا مَا لَيْسَ لَهُمْ بِهِ عَلْمٌ، إِنَّمَا رَأَيْتُ كَأَنَّ عَمُودًا وُضِعَ فِي رَوْضَةٍ خَضْرَاءَ، فَنُصِبَ فِيهَا، وَفِي وَسَطَهَا عُرْوَةٌ، وَفِي أَسْفَلِهَا مِنْصَفٌ مِثْلُ مِنْصَفِ الْوَصِيفِ، فَقِيلَ لِي: ارْقَهْ، فَرَقِيتُهُ، ثُمَّ أَخَذْتُ بِالْعُرْوَةِ، فَقَصَصْتُهَا عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَمُوتُ عَبْدُ اللهِ بْنُ سَلَامٍ وَهُوَ آخِذٌ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقَى»قیس بن عباد رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں ایک حلقے میں تھا جس میں سعد بن مالک اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بھی موجود تھے، اتنے میں سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کا وہاں سے گزر ہوا، تو انہوں نے کہا: یہ جنتی آدمی ہیں۔ میں ان کے پیچھے گیا اور ان سے کہا: انہوں نے ایسا ایسا کہا ہے۔ انہوں نے فرمایا: سبحان اللہ! انہیں ایسی بات نہیں کہنی چاہیے جس کا انہیں علم نہ ہو۔ اصل بات یہ ہے کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ گویا ایک ستون ایک سرسبز باغیچے میں رکھا گیا اور اسے وہاں نصب کیا گیا، اس کے درمیان میں ایک حلقہ تھا، اور اس کے نیچے ایک خادم تھا جیسے کسی کمسن خادم کی طرح۔ مجھ سے کہا گیا: اس پر چڑھو۔ میں چڑھ گیا، پھر میں نے حلقہ پکڑ لیا۔ میں نے یہ خواب رسول اللہ ﷺ سے بیان کیا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”عبداللہ بن سلام کی وفات اس حال میں ہوگی کہ وہ مضبوط کڑے کو تھامے ہوں گے۔“