المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
عبد الرحمن بن كعب بن مالك، عن عبد الله بن أنيس باب: عبدالرحمن بن کعب بن مالک کی سیدنا عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حَمْزَةَ الزُّبَيْرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْهَادِ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أُنَيْسٍ، قَالَ: كُنَّا نَتَدَارَأُ فِي رَمَضَانَ، فَقَالَ قَوْمُنَا: إِنَّهُ يَشُقُّ عَلَيْنَا أَنْ نَنْزِلَ بِعِيَالِنَا وَنِسَائِنَا، وَإِنَّا لَنَخْشَى عَلَيْهِمُ الضَّيْعَةَ إِنْ نَزَلْنَا وَتَرَكْنَاهُمْ، وَإِنَّا نَكْرَهُ أَنْ تَفُوتَنَا هَذِهِ اللَّيْلَةُ، فَهَلْ لَكُمْ أَنْ نُرْسِلَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَيَذْكُرُ هَذَا لَهُ وَيَسْأَلُهُ أَنْ يَأْمُرَنَا بِلَيْلَةٍ نَنْزِلُهَا، قَالَ عَبْدُ اللهِ: فَأَرْسَلُونِي وَكُنْتُ أُحَدِّثُهُمْ، فَجِئْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتُ لَهُ ذَلِكَ، وَسَأَلْتُهُ أَنْ يَأْمُرَنَا بِلَيْلَةٍ نَنْزِلُهَا، فَقَالَ: «انْزِلُوا لَيْلَةَ ثَلَاثٍ وَعِشْرِينَ» . فَكَانَ عَبْدُ اللهِ يَنْزِلُ تِلْكَ اللَّيْلَةَ، فَإِذَا أَصْبَحَ رَجَعَسیدنا عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم رمضان میں (اس بارے میں) باہم بحث کر رہے تھے، تو ہماری قوم نے کہا: ہمارے لیے یہ مشکل ہے کہ ہم اپنے بال بچوں اور عورتوں کو لے کر (مدینہ) آئیں، اور اگر ہم آئیں اور انہیں چھوڑ دیں تو ہمیں ان کے ضائع ہونے کا ڈر ہے، اور ہم یہ بھی ناپسند کرتے ہیں کہ یہ رات ہم سے چھوٹ جائے۔ تو کیا تم اس پر راضی ہو کہ ہم رسول اللہ ﷺ کی طرف (کسی کو) بھیجیں جو آپ ﷺ سے یہ بات ذکر کرے اور آپ ﷺ سے درخواست کرے کہ ہمیں کوئی ایسی رات بتا دیں جس میں ہم آیا کریں؟ عبداللہ کہتے ہیں: چنانچہ انہوں نے مجھے بھیجا کیونکہ میں ان سے باتیں کیا کرتا تھا، چنانچہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور یہ بات آپ ﷺ سے ذکر کی، اور آپ ﷺ سے درخواست کی کہ ہمیں کوئی ایسی رات بتا دیں جس میں ہم (مدینہ) آیا کریں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تئیسویں رات کو آیا کرو۔“ چنانچہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ اسی رات آیا کرتے، اور جب صبح ہوتی تو واپس چلے جاتے۔