المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
عبد الرحمن بن كعب بن مالك، عن عبد الله بن أنيس باب: عبدالرحمن بن کعب بن مالک کی سیدنا عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الضِّرَابُ الْأَصْبَهَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ وَرْدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ عَدِيِّ بْنِ الْفَضْلِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ ضَمْرَةَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بنِ أُنَيْسٍ، وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبٍ، أَنَّهُمَا سَمِعَا عَبْدَ اللهِ بْنَ أُنَيْسٍ، يَقُولُ: جَلَسْتُ فِي مَجْلِسِ بَنِي سَلِمَةَ وَأَنَا أَصْغَرُهُمْ صَبِيحَةَ إِحْدَى وَعِشْرِينَ مِنْ رَمَضَانَ، فَقَالُوا: مَنْ يَسْأَلُ لَنَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَتَى لَيْلَةُ الْقَدْرِ؟، فَقُلْتُ: أَنَا، فَذَهَبْتُ حَتَّى وَافَيْتُ عِنْدَ الْمَغْرِبِ لَيْلَةَ اثْنَتَيْنِ وَعِشْرِينَ، فَصَلَّيْتُ مَعَهُ الصَّلَاةَ، ثُمَّ وَقَفْتُ لَهُ عَلَى بَابِهِ حَتَّى مَرَّ عَلَيَّ، فَأَدْخَلَنِي بَيْتَهُ، فَدَعَا لِي بِعَشَاءٍ، فَقَالَ لِي: «تَعَشَّهْ» ، فَلَقَدْ رَأَيْتُنِي أَكُفُّ عَنْهُ مِنْ قِلَّتِهِ، ثُمَّ دَعَا بِنَعْلَيْهِ فَقَامَ، فَقَالَ: «كَأَنَّ لَكَ حَاجَةٌ؟» ، قُلْتُ: أَجَلْ أَرْسَلَنِي إِلَيْكَ رِجَالٌ مِنْ بَنِي سَلِمَةَ يَسْأَلُونَكَ مَتَى لَيْلَةُ الْقَدْرِ؟، فَقَالَ: «كَمِ اللَّيْلَةُ مِنَ الشَّهْرِ؟» ، فَقُلْتُ: اثْنَتَانِ وَعِشْرُونَ، فَقَالَ: «هِي اللَّيْلَةُ» ، ثُمَّ رَجَعَ، فَقَالَ: «أَوِ الْقَابِلَةُ أَوِ الْقَابِلَةُ»سیدنا عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں چلا یہاں تک کہ مغرب کے وقت بائیسویں رات کو (رسول اللہ ﷺ کے پاس) پہنچا، تو میں نے آپ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی، پھر میں آپ ﷺ کے دروازے پر آپ کا انتظار کرتا رہا یہاں تک کہ آپ میرے پاس سے گزرے، تو آپ ﷺ نے مجھے اپنے گھر میں داخل کر لیا اور میرے لیے کھانا منگوایا اور فرمایا: ”کھا لو۔“ میں نے دیکھا کہ میں کھانے کی کمی کی وجہ سے کھانے سے ہاتھ روک رہا تھا۔ پھر آپ ﷺ نے اپنی جوتیاں منگوائیں اور کھڑے ہو گئے، اور فرمایا: ”لگتا ہے تمہیں کوئی ضرورت ہے؟“ میں نے عرض کیا: جی ہاں، بنو سلمہ کے کچھ لوگوں نے مجھے آپ کی طرف بھیجا ہے، وہ پوچھتے ہیں کہ شب قدر کب ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”آج مہینے کی کون سی تاریخ ہے؟“ میں نے عرض کیا: بائیسویں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”آج رات ہی ہے۔“ پھر واپس آ کر فرمایا: ”یا پھر آنے والی رات، یا پھر آنے والی رات۔“