المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
عمرو بن عبد الله بن أنيس، عن أبيه باب: عمرو بن عبداللہ بن انیس کی اپنے والد سے روایات
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نَافِعٍ الطَّحَّانُ الْمِصْرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ يَعْقُوبَ الزَّمْعِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمٍ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَهُ أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ الْأَنْصَارِيَّ، وَعَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ أُنَيْسٍ أَخْبَرَاهُ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ أُنَيْسٍ أَخْبَرَهُمَا، أَنَّ نَفَرًا مِنَ الْأَنْصَارِ، قَالُوا: مَنْ رَجُلٌ نَبْعَثُهُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟، قَالَ: عَبْدُ اللهِ، فَقُلْتُ: أَنَا، قَالُوا: فَاذْهَبْ فَسَلْهُ لَنَا مَتَى لَيْلَةُ الْقَدْرِ؟، فَخَرَجْتُ حَتَّى وَافِيتُ غُرُوبَ الشَّمْسِ عِنْدَ بَعْضِ أَبْيَاتِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ يُصَلِّي بِالْمَغْرِبِ، فَصَلَّى وَخَرَجَ فَخَرَجْتُ مَعَهُ حَتَّى دَخَلَ بَيْتَهُ وَأَنَا مَعَهُ، فَدَعَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَطْرَةٍ، قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ أُنَيْسٍ: فَرَأَيْتُنِي وَأَنَا أُدْعَا عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ قِلَّةِ طَعَامِهِ، فَلَمَّا فَرَغَ دَعَا بِنَعْلِهِ، ثُمَّ قَالَ: «إِنِّي أَظُنُّ أَنَّ لَكَ حَاجَةً» ، قُلْتُ: أَجَلْ يَا رَسُولَ اللهِ، أَرْسَلَنِي إِلَيْكَ فُلَانٌ وَفُلَانٌ يَسْأَلُونَكَ مَتَى لَيْلَةُ الْقَدْرِ؟، قَالَ: «اللَّيْلَةُ» ، وَتِلْكَ اللَّيْلَةُ لَيْلَةُ اثْنَتَيْنِ وَعِشْرِينَ مِنْ رَمَضَانَ، ثُمَّ قَالَ: «مَا اللَّيْلَةُ؟» ، قُلْتُ: لَيْلَةُ اثْنَتَيْنِ وَعِشْرِينَ، قَالَ: «لَا بَلِ اللَّيْلَةُ الْمُقْبِلَةُ لَيْلَةُ ثَلَاثٍ وَعِشْرِينَ»سیدنا عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انصار کے کچھ لوگوں نے کہا: کون شخص ہے جسے ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس بھیجیں؟ عبداللہ کہتے ہیں: میں نے کہا: میں (جاؤں گا)۔ انہوں نے کہا: تو جاؤ اور ہمارے لیے آپ ﷺ سے پوچھو کہ شب قدر کب ہے؟ چنانچہ میں نکلا یہاں تک کہ غروب آفتاب کے وقت رسول اللہ ﷺ کے گھروں میں سے ایک گھر کے پاس پہنچا۔ پھر نبی کریم ﷺ مغرب کی نماز پڑھانے کے لیے نکلے، آپ ﷺ نے نماز پڑھائی اور (مسجد سے) نکلے تو میں بھی آپ ﷺ کے ساتھ نکلا یہاں تک کہ آپ ﷺ اپنے گھر میں داخل ہوئے اور میں آپ ﷺ کے ساتھ تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے تھوڑا سا کھانا منگوایا۔ سیدنا عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے اپنے آپ کو ایسے پایا کہ کھانے کی کمی کے باعث رسول اللہ ﷺ کی طرف سے مجھے بلایا جا رہا تھا۔ جب آپ ﷺ (کھانے سے) فارغ ہوئے تو اپنی جوتی منگوائی، پھر فرمایا: ”میرا خیال ہے تمہیں کوئی ضرورت ہے۔“ میں نے عرض کیا: جی ہاں، یا رسول اللہ! فلاں اور فلاں نے مجھے آپ کی طرف بھیجا ہے، وہ پوچھتے ہیں کہ شب قدر کب ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”آج رات ہے۔“ اور وہ رات رمضان کی بائیسویں رات تھی۔ پھر فرمایا: ”آج کون سی رات ہے؟“ میں نے کہا: بائیسویں رات۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں بلکہ آنے والی رات، یعنی تئیسویں رات (شب قدر ہے)۔“