المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
ذكر سن عبد الله بن الزبير، ووفاته، ومن أخباره باب: سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کی عمر، وفات، اور ان کے حالات کا بیان
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَبَّاسِ الْأَخْرَمُ الْأَصْبَهَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا الزُّبَيْرُ بْنُ بَكَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ مُصْعَبِ بْنِ ثَابِتٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي مُصْعَبُ بْنُ ثَابِتِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، قَالَ: جِئْتُ، فَقَالَ: أَيْنَ كُنْتَ؟ فَقُلْتُ: وَجَدْتُ أَقْوَامًا مَا رَأَيْتُ خَيْرًا مِنْهُمْ، يَذْكُرُونَ اللهَ فَيُرْعِدُ أَحَدُهُمْ حَتَّى يُغْشَى عَلَيْهِ مِنْ خَشْيَةِ اللهِ، فَقَعَدْتُ مَعَهُمْ، قَالَ: لَا تَقْعُدْ مَعَهُمْ بَعْدَهَا، فَرَآنِي كَأَنَّهُ لَمْ يَأْخُذْ ذَلِكَ فِيَّ، فَقَالَ: «رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتْلُو الْقُرْآنَ، وَرَأَيْتُ أَبَا بَكْرٍ، وَعُمَرَ يَتْلُوَانِ الْقُرْآنَ فَلَا يُصِيبُهُمْ هَذَا، أَفَتَرَاهُمْ أَخْشَعُ لِلَّهِ مِنْ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ فَرَأَيْتُ أَنَّ ذَلِكَ كَذَلِكَ فَتَرَكْتُهُمْ»عامر بن عبداللہ بن زبیر رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں آیا تو انہوں نے پوچھا: تم کہاں تھے؟ میں نے کہا: مجھے ایسے لوگ ملے جن سے بہتر میں نے کوئی نہیں دیکھا، وہ اللہ کا ذکر کرتے تو ان میں سے کوئی کانپنے لگتا یہاں تک کہ اللہ کے خوف سے اس پر غشی طاری ہو جاتی، تو میں ان کے ساتھ بیٹھ گیا۔ انہوں نے فرمایا: اب کے بعد ان کے ساتھ مت بیٹھنا۔ انہوں نے دیکھا کہ گویا مجھ پر اس بات کا اثر نہیں ہوا، تو فرمایا: ”میں نے رسول اللہ ﷺ کو قرآن کی تلاوت کرتے دیکھا، اور میں نے سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کو بھی قرآن کی تلاوت کرتے دیکھا، تو انہیں یہ حالت پیش نہیں آتی تھی، تو کیا تمہارا خیال ہے کہ وہ لوگ ابوبکر اور عمر سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والے ہیں؟“ تو میں نے دیکھا کہ بات یہی ہے، چنانچہ میں نے انہیں چھوڑ دیا۔