المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
ذكر سن عبد الله بن الزبير، ووفاته، ومن أخباره باب: سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کی عمر، وفات، اور ان کے حالات کا بیان
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ أَبِي الطَّاهِرِ بْنِ السَّرْحِ الْمِصْرِيُّ، قَالَ: ثنا أَبُو زَيْدِ بْنِ أَبِي الْغِمْرِ، قَالَ: ثنا ضِمَامُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ عَقِيلِ بْنِ خَالِدٍ، أَنَّ أَبَاهُ كَانَ مَعَ الْحَجَّاجِ لَمَّا قُتِلَ ابْنُ الزُّبَيْرِ، فَبَعَثَهُ إِلَى أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، فَقَالَ لَهُ: قُلْ لَهَا: يَقُولُ لَكِ الْحَجَّاجُ: اعْزِلِي مَا كَانَ لَكِ مِنْ مَالٍ عَنْ مَالِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، فَقَالَ: افْعَلْهَا بِابْنِ أَسْمَاءَ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «يَخْرُجُ مِنْ هَذَا الْحَيِّ مِنْ ثَقِيفَ رَجُلَانِ، أَحَدُهُمَا كَذَّابٌ وَالْآخَرُ مُبِيرٌ» . فَأَمَّا الْكَذَّابُ، فَقَدْ عَرَفْنَاهُ، وَمَا أَحْسَبُهُ إِلَّا الْمُبِيرُ، فَرَجَعْتُ إِلَيْهِ فَأَخْبَرْتُهُ، فَلَمْ يَكْرَهْ ذَلِكَعقیل بن خالد رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ان کے والد حجاج کے ساتھ تھے جب عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما قتل کیے گئے، تو اس نے انہیں سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا کے پاس بھیجا اور کہا: اس سے کہو: حجاج تم سے کہتا ہے کہ تم اپنا مال عبداللہ بن زبیر کے مال سے الگ کر لو۔ انہوں نے فرمایا: یہ بات جا کر ابن اسماء سے کرو! میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا ہے: ”اس قبیلے، یعنی ثقیف، میں سے دو آدمی نکلیں گے، ان میں سے ایک بڑا جھوٹا اور دوسرا بڑا فسادی ہوگا۔“ جھوٹے کو تو ہم پہچان چکے، اور مجھے یقین ہے کہ فسادی بس یہی ہے۔ راوی کہتے ہیں: میں اس کے پاس واپس آیا اور اسے بتایا، تو اسے یہ بات ناگوار نہ لگی۔