حدیث نمبر: 13771
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، قَالَ: ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادِ بْنِ أَنْعَمَ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ عَبْدٍ الْمَعَافِرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كُلُّ دَيْنٍ مَأْجُورٌ مِنْ حَسَنَاتِ صَاحِبِهِ، إِلَّا مَنِ ادَّانَ فِي ثَلَاثٍ: رَجُلٌ ضَعُفَتْ قُوَّتُهُ فِي سَبِيلِ اللهِ فَتَقَوَّى عَلَى قِتَالِ عَدُوِّهِ بِدَيْنٍ فَمَاتَ وَلَمْ يَقْضِ، وَرَجُلٌ خَافَ عَلَى نَفْسِهِ الْعُزُوبَةَ فَاسْتَعَفَّ بِنِكَاحِ امْرَأَةٍ بِدَيْنٍ فَمَاتَ وَلَمْ يَقْضِ، وَرَجُلٌ مَاتَ عِنْدَهُ رَجُلٌ مُسْلِمٌ فَلَمْ يَجِدْ مَا يُكَفِّنُهُ إِلَّا بِدَيْنٍ فَمَاتَ وَلَمْ يَقْضِ، قُضِيَ عَنْهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ "
ترجمہ

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ہر قرض اپنے لینے والے کی نیکیوں میں سے اجر کا باعث ہے، سوائے تین صورتوں کے: ایک وہ آدمی جو اللہ کی راہ میں کمزور ہو گیا، تو اس نے قرض لے کر اپنے دشمن سے لڑنے کی طاقت حاصل کی، پھر مر گیا اور قرض ادا نہ کر سکا۔ اور دوسرا وہ آدمی جسے اپنی ذات پر مجرد رہنے کا خوف ہوا، تو اس نے قرض لے کر نکاح کر کے اپنے آپ کو بچایا، پھر مر گیا اور قرض ادا نہ کر سکا۔ اور تیسرا وہ آدمی جس کے پاس کوئی مسلمان فوت ہو گیا اور اسے کفن دینے کے لیے قرض کے سوا کچھ نہ ملا، پھر وہ خود بھی مر گیا اور قرض ادا نہ کر سکا۔ تو ان تینوں کی طرف سے قیامت کے دن قرض ادا کر دیا جائے گا۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 13771
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 13، صفحہ 70، حدیث 174