المعجم الكبير للطبراني
باب الثاء— حرف ثا سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
ثعلبة بن سعية باب: سیدنا ثعلبہ بن سعیہ رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي مُحَمَّدٍ، مَوْلَى زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ، أَوْ عِكْرِمَةُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِي اللهُ عَنْهمَا، قَالَ: " لَمَّا أَسْلَمَ عَبْدُ اللهِ بْنُ سَلَامٍ، وَثَعْلَبَةُ بْنُ سَعْيَةَ، وَأَسَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، وَمَنْ أَسْلَمَ مِنْ يَهُودَ، فَآمَنُوا، وَصَدَّقُوا، وَرَغِبُوا فِي الْإِسْلَامِ، قَالَتْ أَحْبَارُ يَهُودَ أَهْلُ الْكُفْرِ: مَا آمَنَ بِمُحَمَّدٍ، وَلَا تَبِعَهُ إِلَّا شِرَارُنا، وَلَوْ كَانُوا مِنْ خِيَارِنَا، مَا تَرَكُوا دِينَ آبَائِهِمْ، فَأنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي ذَلِكَ مِنْ قَوْلِهِمْ: {لَيْسُوا سَوَاءً مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ} [آل عمران: ١١٣] ، إِلَى قَوْلِهِ: {مِنَ الصَّالِحِينَ} [آل عمران: ١١٤] "سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: جب سیدنا عبداللہ بن سلام، ثعلبہ بن سعیہ، اسد بن عبید اور یہود میں سے جو اسلام لائے، وہ ایمان لائے، تصدیق کی، اور اسلام کی طرف راغب ہوئے، تو یہود کے کافر علماء نے کہا: محمد پر ایمان صرف ہمارے بدترین لوگوں نے لایا ہے، اور اس کی پیروی صرف انہی نے کی ہے، اگر یہ ہمارے بہترین لوگوں میں سے ہوتے تو اپنے آباء کا دین نہ چھوڑتے۔ اس پر اللہ عزوجل نے ان کی اس بات کے جواب میں یہ آیت نازل فرمائی: ”یہ سب یکساں نہیں ہیں، اہلِ کتاب میں سے ایک جماعت سیدھی راہ پر قائم ہے، وہ رات کے اوقات میں اللہ کی آیتیں پڑھتے ہیں اور سجدہ کرتے ہیں۔ وہ اللہ پر اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتے ہیں، نیکی کا حکم دیتے ہیں اور برائی سے روکتے ہیں، اور بھلائی کے کاموں میں جلدی کرتے ہیں، اور یہی لوگ نیک لوگوں میں سے ہیں۔“ [سورۃ آل عمران: 113-114]