المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
أبو عبد الرحمن الحبلي، عن عبد الله بن عمرو باب: ابوعبدالرحمن حبلی کی سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایات
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ خَالِدِ بْنِ حَيَّانَ الرَّقِّيُّ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ زِبْرِيقٍ الْحِمْصِيُّ، قَالَ: ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ كَثِيرِ بْنِ دِينَارٍ، قَالَ: ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ حُيَيِّ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا طَلَعَتِ الشَّمْسُ مِنْ مَغْرِبِهَا خَرَّ إِبْلِيسُ سَاجِدًا يُنَادِي وَيَجْهَرُ: إِلَهِي مُرْنِي بِالسُّجُودِ لِمَنْ شِئْتَ، قَالَ: فَتَجْتَمِعُ إِلَيْهِ زَبَانِيَتُهُ، فَيَقُولُونَ: يَا سَيِّدَهُمْ مَا هَذَا التَّضَرُّعُ؟، فَيَقُولُ: إِنَّمَا سَأَلْتُ رَبِّي جَلَّ وَعَزَّ أَنْ يُنْظِرَنِي إِلَى الْوَقْتِ الْمَعْلُومِ، وَهَذَا الْوَقْتُ الْمَعْلُومُ، قَالَ: تَخْرُجُ دَابَّةُ الْأَرْضِ مِنْ صَدْعٍ فِي الصَّفَا، فَأَوَّلُ خُطْوَةٍ تَضَعُهَا بَأَنْطَاكِيَةَ، فَتَأْتِي إِبْلِيسَ، فَتَلْطِمُهُ "سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب سورج مغرب سے طلوع ہوگا تو ابلیس سجدے میں گر پڑے گا اور بلند آواز سے پکارے گا: اے میرے رب، مجھے حکم دے کہ میں جسے تو چاہے اسے سجدہ کروں۔ راوی کہتے ہیں: تو اس کے کارندے اس کے پاس جمع ہو جائیں گے اور کہیں گے: اے ہمارے سردار، یہ کیسی گڑگڑاہٹ ہے؟ وہ کہے گا: میں نے تو اپنے رب عزوجل سے صرف اتنا سوال کیا تھا کہ وہ مجھے مقررہ وقت تک مہلت دے، اور یہی وہ مقررہ وقت ہے۔ راوی کہتے ہیں: اسی وقت زمین کا جانور صفا کی ایک دراڑ سے نکلے گا، اس کا پہلا قدم انطاکیہ میں پڑے گا، پھر وہ ابلیس کے پاس آئے گا اور اسے تھپڑ مارے گا۔“