المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
أبو عبد الرحمن الحبلي، عن عبد الله بن عمرو باب: ابوعبدالرحمن حبلی کی سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایات
حدیث نمبر: 13707
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَنْصَارِيُّ، قَالَ: ثنا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: ثنا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي حُيَيٌّ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى الظُّهْرَ فَوَجَدَ رَاحِلَةً مَعْقُولَةً، فَقَالَ: «أَيْنَ صَاحِبُ هَذِهِ الرَّاحِلَةِ؟» ، فَلَمْ يَسْتَجِبْ لَهُ أَحَدٌ، فَدَخَلَ الْمَسْجِدَ فَصَلَّى حَتَّى إِذَا فَرَغَ خَرَجَ فَوَجَدَ الرَّاحِلَةَ كَمَا هِيَ، فَقَالَ: «أَينَ صَاحِبُ هَذِهِ الرَّاحِلَةِ؟» ، فَاسْتَجَابَ لَهُ صَاحِبُهَا، فَقَالَ: أَنَا يَا نَبِيَّ اللهِ صَاحِبُهَا، فَقَالَ: «أَلَا تَتَّقِي اللهَ فِيهَا؟، إِمَّا أَنْ تَعْلِفَهَا، وَإِمَّا أَنْ تُرْسِلَهَا حَتَّى تَبْتَغِيَ لِنَفْسِهَا»ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ظہر کی نماز پڑھی تو ایک بندھی ہوئی سواری پائی، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس سواری کا مالک کہاں ہے؟“ لیکن کسی نے جواب نہ دیا، آپ ﷺ مسجد میں داخل ہوئے اور نماز پڑھی، جب فارغ ہوئے تو باہر نکلے اور سواری کو ویسے ہی پایا، تو فرمایا: ”اس سواری کا مالک کہاں ہے؟“ اس بار اس کے مالک نے جواب دیا اور عرض کیا: میں ہوں، اے اللہ کے نبی، اس کا مالک۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم اس کے بارے میں اللہ سے نہیں ڈرتے؟ یا تو اسے چارہ دو، یا اسے چھوڑ دو تاکہ وہ خود اپنے لیے چارہ تلاش کرے۔“