المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
أبو عبد الرحمن الحبلي، عن عبد الله بن عمرو باب: ابوعبدالرحمن حبلی کی سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایات
حدیث نمبر: 13706
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ: ثنا أَحْمَدُ، قَالَ: ثنا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي حُيَيٌّ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: سَارَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَزَلَ بِأَصْحَابِهِ، وَإِذَا نَاسٌ قَدْ جَعَلُوا عَرِيشًا عَلَى صَاحِبِهِمْ وَهُوَ صَائِمٌ، فَمَرَّ بِهِمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «مَا شَأْنُ صَاحِبِكُمْ؟، أَوَجِعٌ هُوَ؟» ، قَالُوا: لَا يَا رَسُولَ اللهِ، وَلَكِنَّهُ صَائِمٌ، وَذَلِكَ فِي يَوْمٍ حَرُورٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا بِرَّ أَنْ يُصَامَ فِي السَّفَرِ»ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ سفر میں چلے اور اپنے صحابہ کے ساتھ پڑاؤ ڈالا، تو کچھ لوگوں نے اپنے ایک ساتھی پر سائبان بنا رکھا تھا اور وہ روزے سے تھا، رسول اللہ ﷺ ان کے پاس سے گزرے تو فرمایا: ”تمہارے ساتھی کو کیا ہوا؟ کیا وہ بیمار ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: نہیں، یا رسول اللہ، لیکن وہ روزے سے ہے، اور وہ سخت گرمی کا دن تھا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”سفر میں روزہ رکھنا نیکی نہیں۔“