المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
عمرو بن دينار، عن ابن عمر باب: عمرو بن دینار کی سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایات
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، وَأَبُو حَنِيفَةَ مُحَمَّدُ بْنُ حَنِيفَةَ الْوَاسِطِيُّ، قَالَا: ثنا أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ الْعِجْلِيُّ، ثنا حَمَّادُ بْنُ وَاقِدٍ الصَّفَّارُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ ذَكْوَانَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ: إِنَّا لَقُعُودٌ بِفِنَاءِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذْ مَرَّتِ امْرَأَةٌ، فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ: هَذِهِ ابْنَةُ مُحَمَّدٍ، فَقَالَ رَجُلٌ: إِنَّ مَثَلَ مُحَمَّدٍ فِي بَنِي هَاشِمٍ مَثَلُ الرَّيْحَانَةِ فِي وَسَطِ النَّتْنِ، فَانْطَلَقْتِ الْمَرْأَةُ فَأَخْبَرْتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْرَفُ فِي وَجْهِهِ الْغَضَبُ حَتَّى قَامَ عَلَى الْقَوْمِ، فَقَالَ: «مَا بَالُ أَقْوَالٍ تَبْلُغُنِي عَنْ أَقْوَامٍ، إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ، وَالْأَرْضَ سَبْعًا، فَاخْتَارَ الْعُلْيَا مِنْهَا فَسَكَنَهَا، وَأَسْكَنَ سَمَاوَاتِهِ مَنْ شَاءَ مِنْ خَلْقِهِ، وَخَلَقَ الْأَرْضَ سَبْعًا، فَاخْتَارَ الْعُلْيَا مِنْهَا فَأَسْكَنَهَا مَنْ شَاءَ مِنْ خَلْقِهِ، وَخَلَقَ الْخَلْقَ فَاخْتَارَ مِنَ الْخَلْقِ بَنِي آدَمَ، وَاخْتَارَ مِنْ بَنِي آدَمَ الْعَرَبَ، وَاخْتَارَ مِنَ الْعَرَبِ مُضَرَ، وَاخْتَارَ مِنْ مُضَرَ قُرَيْشًا، وَاخْتَارَ مِنْ قُرَيْشٍ بَنِي هَاشِمٍ، وَاخْتَارَنِي مِنْ بَنِي هَاشِمٍ، فَأَنَا مِنْ خِيَارٍ إِلَى خِيَارٍ، فَمَنْ أَحَبَّ الْعَرَبَ فَبِحُبِّي أَحَبَّهُمْ، وَمَنْ أَبْغَضَ الْعَرَبَ فَبِبُغْضِي أَبْغَضَهُمْ»وہ عورت گئی اور نبی کریم ﷺ کو بتایا، تو نبی کریم ﷺ اس حال میں تشریف لائے کہ آپ ﷺ کے چہرے پر غصہ پہچانا جا رہا تھا، یہاں تک کہ آپ ﷺ لوگوں کے سامنے کھڑے ہوئے اور فرمایا: ”یہ کیسی باتیں ہیں جو مجھے کچھ لوگوں کی طرف سے پہنچ رہی ہیں؟ بے شک اللہ عزوجل نے سات آسمان اور سات زمینیں پیدا کیں، تو ان میں سے سب سے اونچے کو چن کر اس میں سکونت اختیار کی، اور اپنے آسمانوں میں اپنی مخلوق میں سے جسے چاہا بسایا۔ اور سات زمینیں پیدا کیں تو ان میں سے سب سے اونچی کو چن کر اپنی مخلوق میں سے جسے چاہا اس میں بسایا۔ اور مخلوق کو پیدا کیا تو مخلوق میں سے بنی آدم کو چن لیا، اور بنی آدم میں سے عرب کو چن لیا، اور عرب میں سے مضر کو چن لیا، اور مضر میں سے قریش کو چن لیا، اور قریش میں سے بنی ہاشم کو چن لیا، اور مجھے بنی ہاشم میں سے چن لیا۔ تو میں چنیدہ در چنیدہ ہوں۔ جو عرب سے محبت رکھے وہ میری محبت کی وجہ سے ان سے محبت رکھتا ہے، اور جو عرب سے بغض رکھے وہ میرے بغض کی وجہ سے ان سے بغض رکھتا ہے۔“