حدیث نمبر: 13545
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ، ثنا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ حَنَشٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ: هَجَّرْتُ الرَّوَاحَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَ أَبُو الْحَسَنِ فَقَالَ لَهُ النَّبِِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ادْنُ مِنِّي يَا أَبَا الْحَسَنِ» فَلَمْ يَزَلْ يُدْنِيهِ حَتَّى الْتَقَمَ أُذُنَهُ فَأَتَى نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ادْنُ مِنِّي يَا أَبَا الْحَسَنِ» فَلَمْ يَزَلْ يُدْنِيهِ حَتَّى الْتَقَمَ أُذُنَهُ فَأَتَى نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيَسَارِهِ حَتَّى رَفَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأْسَهُ كَالْفَزِعِ فَقَالَ: «قَرَعَ الْخَبِيثُ بِسَمْعِهِ الْبَابَ» فَقَالَ: انْطَلِقْ يَا أَبَا الْحَسَنِ فَقُدْهُ كَمَا تُقَادُ الشَّاةُ إِلَى حَالِبِهَا، فَإِذَا أَنَا بِعَلِيٍّ قَدْ جَاءَ بِالْحَكَمِ آخِذًا بِأُذُنِهِ وَلِهَازِمِهِ جَمِيعًا حَتَّى وَقَفَهِ بَيْنَ يَدَيِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَعَنَهُ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثًا، ثُمَّ قَالَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَلِيٍّ: «اجْلِسْ نَاحِيَةً» حَتَّى رَاحَ إِلَى نَبِيِّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَاسٌ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ، وَالْأَنْصَارِ ثُمَّ دَعَا بِهِ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ: «هَا إِنَّ هَذَا سَيُخَالِفُ كِتَابَ اللهِ وَسُنَّةَ نَبِيِّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَيَخْرُجُ مِنْ صُلْبِهِ فِتَنٌ يَبْلُغُ دُخَانُهَا السَّمَاءَ» ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ: صَدَقَ اللهُ وَرَسُولُهُ هُوَ أَقَلُّ وَأَذَلُّ مِنْ أَنْ يَكُونَ مِنْهُ ذَلِكَ، قَالَ: «بَلَى، وَبَعْضُكُمْ وَبَعْضُهُمْ يَوْمَئِذٍ شِيعَتُهُ»
ترجمہ

میں دوپہر کے وقت نبی کریم ﷺ کے پاس گیا تو ابوالحسن (علی رضی اللہ عنہ) آئے، نبی کریم ﷺ نے ان سے فرمایا: ”میرے قریب آ جاؤ اے ابوالحسن۔“ آپ ﷺ انہیں مسلسل قریب کرتے رہے یہاں تک کہ ان کا کان آپ ﷺ کے قریب ہو گیا، یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنا سر اس طرح اٹھایا جیسے گھبرا گئے ہوں، اور فرمایا: ”اس خبیث نے اپنے کان سے دروازے پر دستک دی۔“ پھر فرمایا: ”جاؤ اے ابوالحسن، اسے یوں ہانک کر لے آؤ جیسے بکری کو اس کے دودھ دوہنے والے کی طرف ہانکا جاتا ہے۔“ پھر میں نے دیکھا کہ علی رضی اللہ عنہ حکم کو اس کے کان اور جبڑے دونوں سے پکڑ کر لائے، یہاں تک کہ اسے نبی کریم ﷺ کے سامنے کھڑا کر دیا، تو نبی کریم ﷺ نے اسے تین بار لعنت کی، پھر نبی کریم ﷺ نے علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”ایک طرف بیٹھ جاؤ۔“ یہاں تک کہ مہاجرین اور انصار میں سے لوگ نبی کریم ﷺ کے پاس آ گئے، پھر نبی کریم ﷺ نے اسے دوبارہ بلایا اور فرمایا: ”یاد رکھو! یہ شخص کتاب اللہ اور اس کے نبی ﷺ کی سنت کی مخالفت کرے گا، اور اس کی نسل سے ایسے فتنے نکلیں گے جن کا دھواں آسمان تک پہنچے گا۔“ اس پر مسلمانوں میں سے ایک آدمی نے کہا: اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا، یہ تو اس سے بہت حقیر اور ذلیل ہے کہ اس سے ایسا کچھ ہو۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیوں نہیں، اور تم میں سے کچھ لوگ اس دن اس کے پیروکار ہوں گے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 13545
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 12، صفحہ 439، حدیث 13602