المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
عطاء بن أبي رباح، عن ابن عمر باب: عطاء بن ابی رباح کی سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایات
حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ أَبِي رَوْحٍ الْبَصْرِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَبَانَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلِ بْنِ غَزْوَانَ، عَنْ أَبِي حَيَّانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَأَقْبَلَ أَعْرَابِيٌّ، فَلَمَّا دَنَا قَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَيْنَ تُرِيدُ؟» قَالَ: إِلَى أَهْلِي، قَالَ: «هَلْ لَكَ فِي خَيْرٍ؟» قَالَ: مَا هُوَ؟، قَالَ: «تَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ» ، قَالَ: مَنْ شَاهِدٌ عَلَى مَا تَقُولُ؟ قَالَ: «هَذِهِ الشَّجَرَةُ» فَدَعَاهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهِيَ بِشَاطِئِ الْوَادِي فَأَقْبَلَتْ تَخُدُّ الْأَرْضَ خَدًّا حَتَّى قَامَتْ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَاسْتَشْهَدَهَا ثَلَاثًا فَشَهِدَتْ أَنَّهُ كَمَا قَالَ , ثُمَّ رَجَعَتْ إِلَى مَنْبَتِهَا، وَرَجَعَ الْأَعْرَابِيُّ إِلَى قَوْمِهِ فَقَالَ: إِنْ يَتْبَعُونِي آتِيكَ بِهِمْ، وَإِلَّا رَجَعْتُ إِلَيْكَ فَكُنْتُ مَعَكَسیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک سفر میں تھے کہ ایک اعرابی سامنے آیا، جب وہ قریب آیا تو نبی کریم ﷺ نے اس سے فرمایا: ”کہاں کا ارادہ ہے؟“ اس نے کہا: اپنے گھر والوں کی طرف۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تمہیں کسی بھلائی کی خواہش ہے؟“ اس نے کہا: وہ کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم اس بات کی گواہی دو کہ اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اور محمد اس کے بندے اور رسول ہیں۔“ اس نے کہا: آپ کی اس بات پر گواہ کون ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ درخت۔“ چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے اسے بلایا، وہ وادی کے کنارے پر تھا، وہ زمین چیرتا ہوا آیا یہاں تک کہ آپ ﷺ کے سامنے آ کر کھڑا ہو گیا، آپ ﷺ نے اس سے تین بار گواہی طلب کی تو اس نے گواہی دی کہ بات ویسی ہی ہے جیسی آپ ﷺ نے فرمائی، پھر وہ اپنی اگنے کی جگہ پر واپس چلا گیا۔ اور اعرابی اپنی قوم کی طرف لوٹ گیا اور کہا: اگر وہ میری بات مان کر میرے ساتھ چلیں تو میں انہیں آپ کے پاس لے آؤں گا، ورنہ میں خود آپ کے پاس لوٹ آؤں گا اور آپ کے ساتھ رہوں گا۔