المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
زيد بن أسلم، عن ابن عمر باب: زید بن اسلم کی سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایات
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْخَضَرِ الْخُزَاعِيُّ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدَةَ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، عَنْ أَبِي عِصْمَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتِ الْمُوجِبَاتُ مِثْلَ قَوْلِهِ: {الَّذِينُ يَأْكُلُونُ أَمْوَالَ الْيَتَامَى ظُلْمًا} [النساء: ١٠] إِلَى آخِرِ الْآيَةِ، وَمِثْلَ {الَّذِينَ يَأْكُلُونَ الرِّبَا} [البقرة: ٢٧٥] ، وَمِثْلَ قَوْلِهِ: {وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ} [النساء: ٩٣] قَالَ: " كُنَّا نَشْهَدُ عَلَى مَنْ فَعَلَ شَيْئًا مِنْ هَذَا أَنَّهُ فِي النَّارِ، فَلَمَّا نَزَلَتْ قَوْلُهُ: {إِنَّ اللهَ لَا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَلِكَ لِمَنْ يَشَاءُ} [النساء: ٤٨] كَفَفْنَا، عَنِ الشَّهَادَةِ فَخِفْنَا عَلَيْهِمْ بِمَا أَوْجَبَ اللهُ لَهُمْ "سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: جب وہ آیات نازل ہوئیں جو (جہنم کو) واجب کرتی ہیں، جیسے اللہ کا فرمان: ”جو لوگ یتیموں کا مال ظلم سے کھاتے ہیں“ [سورۃ النساء: 10] آخر آیت تک، اور جیسے ”جو لوگ سود کھاتے ہیں“ [سورۃ البقرہ: 275]، اور جیسے اس کا فرمان: ”اور جو کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کرے تو اس کی سزا جہنم ہے“ [سورۃ النساء: 93] - تو انہوں نے فرمایا: ہم جو بھی ایسا کوئی کام کرتا اس کے بارے میں گواہی دیتے تھے کہ وہ جہنمی ہے، پھر جب یہ آیت نازل ہوئی: ”بےشک اللہ اس بات کو نہیں بخشتا کہ اس کا شریک ٹھہرایا جائے، اور اس کے سوا جسے چاہے بخش دیتا ہے“ [سورۃ النساء: 48] - تو ہم نے اس طرح کی گواہی دینا چھوڑ دیا اور ان کے بارے میں اس چیز کا خوف کرنے لگے جو اللہ نے ان پر واجب کی تھی۔