المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
زيد بن أسلم، عن ابن عمر باب: زید بن اسلم کی سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایات
حدیث نمبر: 13274
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الطُّفَاوِيُّ، ثنا أَيُّوبُ بْنُ أَبِي تَمِيمَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيَّ إِزَارٌ تَتَقَعْقَعُ فَقَالَ: «مَنْ هَذَا؟» ، فَقُلْتُ: عَبْدُ اللهِ فَقَالَ: «إِنْ كُنْتَ عَبْدَ اللهِ فَارْفَعْ إِزَارَكَ» فَرَفَعْتُ إِزَارِي إِلَى نِصْفِ السَّاقَيْنِ «فَلَمْ يَزَلْ إِزْرَتَهَ حَتَّى مَاتَ»ترجمہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: میں نبی کریم ﷺ کے پاس گیا جبکہ میرا تہبند (زمین پر گھسٹنے سے) سرسرا رہا تھا، تو آپ ﷺ نے پوچھا: ”یہ کون ہے؟“ میں نے کہا: عبداللہ۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر تم عبداللہ (اللہ کے بندے) ہو تو اپنا تہبند اونچا کرو۔“ تو میں نے اپنا تہبند پنڈلیوں کے نصف تک اونچا کر لیا، اور میں اپنی وفات تک اسی طرح تہبند باندھتا رہا۔