المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
عبد الله بن وهب، عن ابن عمر باب: عبداللہ بن وہب کی سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایات
حدیث نمبر: 13262
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ هَاشِمٍ الْبَغَوِيُّ، ثنا أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامٍ، ثنا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي جَمِيلَةَ يُحَدِّثُ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ أَنَّ عُثْمَانَ قَالَ لِابْنِ عُمَرَ: اذْهَبْ فَكُنْ قَاضِيًا، قَالَ أَوَ تُعْفِينِي , يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ؟ قَالَ: لَا، اذْهَبْ فَاقْضِ بَيْنَ النَّاسِ، قَالَ: أَوَ تُعْفِينِي , يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ؟ قَالَ: لَا، عَزَمْتُ عَلَيْكَ إِلَّا ذَهَبْتَ فَقَضَيْتَ، قَالَ: لَا تَعْجَلْ، سَمِعْتَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: مَنْ عَاذَ بِاللهِ فَقَدْ عَاذَ بِمُعَاذٍ "؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَإِنَّى أَعُوذُ بِاللهِ، أَنْ أَكُونَ قَاضِيًا، قَالَ: وَمَا يَمْنَعُكُ، وَقَدْ كَانَ أَبُوكَ يَقْضِي؟ قَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ كَانَ قَاضِيًا فَقَضَى بِجَهْلٍ كَانَ مِنْ أَهْلِ النَّارِ، وَمَنْ كَانَ قَاضِيًا عَالِمًا فَقَضَى بِحَقٍّ أَوْ بِعَدْلٍ سَأَلَ التَّفَلُّتَ كِفَافًا» ، فَمَا أَرْجُو بَعْدَ هَذَا؟ " قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ: عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ: هَذَا هُوَ عِنْدِي عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبِ بْنِ زَمْعَةَ، وَاللهُ أعْلَمُ "ترجمہ
…اس نے کہا: میں قاضی بننے سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں۔ اس سے کہا گیا: تمہیں کیا چیز روکتی ہے، جبکہ تمہارے والد قضاء کیا کرتے تھے؟ اس نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ”جو قاضی بنا اور جہالت سے فیصلہ کیا وہ جہنمیوں میں سے ہے، اور جو عالم قاضی بنا اور حق یا انصاف سے فیصلہ کیا تو وہ اس ذمہ داری سے بس بچ نکلنے کی دعا کرے،“ تو اس کے بعد میں کیا امید رکھوں؟
امام طبرانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”عبداللہ بن وہب - میرے نزدیک یہ عبداللہ بن وہب بن زمعہ ہیں، واللہ اعلم۔“