المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
عبد الله بن وهب، عن ابن عمر باب: عبداللہ بن وہب کی سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایات
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ هَاشِمٍ الْبَغَوِيُّ، ثنا أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامٍ، ثنا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي جَمِيلَةَ يُحَدِّثُ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ أَنَّ عُثْمَانَ قَالَ لِابْنِ عُمَرَ: اذْهَبْ فَكُنْ قَاضِيًا، قَالَ أَوَ تُعْفِينِي , يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ؟ قَالَ: لَا، اذْهَبْ فَاقْضِ بَيْنَ النَّاسِ، قَالَ: أَوَ تُعْفِينِي , يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ؟ قَالَ: لَا، عَزَمْتُ عَلَيْكَ إِلَّا ذَهَبْتَ فَقَضَيْتَ، قَالَ: لَا تَعْجَلْ، سَمِعْتَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: مَنْ عَاذَ بِاللهِ فَقَدْ عَاذَ بِمُعَاذٍ "؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَإِنَّى أَعُوذُ بِاللهِ، أَنْ أَكُونَ قَاضِيًا، قَالَ: وَمَا يَمْنَعُكُ، وَقَدْ كَانَ أَبُوكَ يَقْضِي؟ قَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ كَانَ قَاضِيًا فَقَضَى بِجَهْلٍ كَانَ مِنْ أَهْلِ النَّارِ، وَمَنْ كَانَ قَاضِيًا عَالِمًا فَقَضَى بِحَقٍّ أَوْ بِعَدْلٍ سَأَلَ التَّفَلُّتَ كِفَافًا» ، فَمَا أَرْجُو بَعْدَ هَذَا؟ " قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ: عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ: هَذَا هُوَ عِنْدِي عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبِ بْنِ زَمْعَةَ، وَاللهُ أعْلَمُ "عبداللہ بن وہب رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا: جاؤ اور قاضی بن جاؤ۔ انہوں نے کہا: کیا آپ مجھے معاف نہیں کر سکتے، اے امیر المومنین؟ انہوں نے کہا: نہیں، جاؤ اور لوگوں کے درمیان فیصلے کرو۔ انہوں نے پھر کہا: کیا آپ مجھے معاف نہیں کر سکتے، اے امیر المومنین؟ انہوں نے کہا: نہیں، میں تم پر لازم کرتا ہوں کہ تم جاؤ اور فیصلے کرو۔ انہوں نے کہا: جلدی نہ کیجیے، کیا آپ نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا ہے: ”جو اللہ کی پناہ لے اس نے (سب سے بڑی) پناہ گاہ کی پناہ لی؟“ انہوں نے کہا: ہاں۔ انہوں نے کہا: تو میں اللہ کی پناہ چاہتا ہوں اس بات سے کہ میں قاضی بنوں۔ انہوں نے کہا: تمہیں کیا چیز روکتی ہے، حالانکہ تمہارے والد بھی تو قضا کیا کرتے تھے؟ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا ہے: ”جو قاضی بنا اور جہالت کے ساتھ فیصلہ کیا وہ جہنمیوں میں سے ہوگا، اور جو قاضی عالم بنا اور حق یا عدل کے ساتھ فیصلہ کیا وہ بھی یہی مانگے گا کہ برابر سرابر (بغیر اجر و گناہ کے) چھوٹ جائے“، تو اس کے بعد مجھے کیا امید رہ جاتی ہے؟ ابو القاسم رحمہ اللہ کہتے ہیں: میرے نزدیک یہ عبداللہ بن وہب، عبداللہ بن وہب بن زمعہ ہیں، واللہ اعلم۔