المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
سالم عن ابن عمر باب: سالم کی سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایات
حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنْبَاعِ رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ، وَيَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْعَلَّافُ، قَالَا: ثنا أَبُو صَدَقَةَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الْقَرَاطِيسِيُّ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ بْنُ زِيَادٍ الْحَضْرَمِيُّ، قَالَ: لَقِيَ مَالِكُ بْنُ دِينَارٍ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ وَهُوَ رَاكِبٌ عَلَى حِمَارٍ سَاقِطَةٍ أُذُنَاهَ رَثِّ السُّرُجِ، وَالثِّيَابِ فَقَالَ لَهُ سَالِمٌ: مِمَّنِ الرَّجُلُ؟ فَقَالَ: مِنْكَ وَإِلَيْكَ وَمِنْ بَعْضِ مَوَالِيكَ , فَقَالَ: حَدِّثْنِي عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ الْمُسْلِمَ أَخُو الْمُسْلِمِ لَا يَظْلِمُهُ، وَلَا يَخُونُهُ، وَلَا يُسْلِمُهُ فِي مُصِيبَةٍ نَزَلَتْ بِهِ، وَإِنْ يَلْفَ خِيَارَ الْعَرَبِ وَالْمَوَالِي , يُحِبُّ بَعْضُهُمْ بَعْضًا حُبًّا لَا يَجِدُونَ مِنْ ذَلِكَ بُدًّا، وَإِنْ يَلْفَ شِرَارَ الْفَرِيقَيْنِ , يُبْغِضُ بَعْضُهُمْ بُغْضًا لَا يَجِدُونَ مِنْ ذَلِكَ بُدًّا»عبید بن زیاد حضرمی رحمہ اللہ کہتے ہیں: مالک بن دینار رحمہ اللہ کی سالم بن عبداللہ بن عمر بن خطاب رحمہ اللہ سے ملاقات ہوئی، جبکہ وہ ایک ایسے گدھے پر سوار تھے جس کے کان لٹکے ہوئے تھے، اور ان کی زین اور کپڑے بوسیدہ تھے۔ سالم نے ان سے پوچھا: تم کس کے آدمی ہو؟ انہوں نے کہا: آپ ہی سے ہوں، اور آپ ہی کی طرف ہوں، اور آپ کے بعض موالی میں سے ہوں۔ پھر انہوں نے کہا: مجھے رسول اللہ ﷺ کی حدیث سنائیے۔ (تو سالم نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:) ”مسلمان، مسلمان کا بھائی ہے، نہ اس پر ظلم کرتا ہے، نہ اس کے ساتھ خیانت کرتا ہے، اور نہ اسے کسی مصیبت میں جو اس پر آئے بے یار و مددگار چھوڑتا ہے۔ اگر عربوں اور موالی کے بہترین لوگ اکٹھے ہو جائیں تو وہ ایک دوسرے سے ایسی محبت کرتے ہیں کہ اس سے چارہ نہیں پاتے، اور اگر دونوں فریقوں کے بدترین لوگ اکٹھے ہو جائیں تو وہ ایک دوسرے سے ایسی نفرت کرتے ہیں کہ اس سے بھی چارہ نہیں پاتے۔“