حدیث نمبر: 13180
حَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدَةَ عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْعَسْكَرِيُّ، ثنا وَهْبُ بْنُ مُحَمَّدٍ السَّامِيُّ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ قَهْرَمَانُ آلِ الزُّبَيْرِ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَأَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ رَجُلٍ، فَقَالَ: «مَنْ يَعْرِفُهُ» ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْهُمْ: أَنَا، قَالَ: «اسْمُهُ؟» قَالَ: لَا أَدْرِي قَالَ: «مَا اسْمُ أَبِيهِ؟» قَالَ: لَا أَدْرِي، قَالَ: «فَمَنْزِلُهُ؟» قَالَ: لَا أَدْرِي، قَالَ: «لَيْسَتْ هَذِهِ بِمَعْرِفَةٍ حَتَّى تَعْرِفَ اسْمَهُ وَاسْمَ أَبِيهِ وَقَبِيلَتَهُ إِنْ مَرِضَ عُدْتَهُ، وَإِنْ مَاتَ اتَّبَعْتَ جِنَازَتَهُ»
ترجمہ

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ایک شخص کے بارے میں پوچھا: ”اسے کون جانتا ہے؟“ ان میں سے ایک شخص نے کہا: میں۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”اس کا نام کیا ہے؟“ اس نے کہا: مجھے نہیں معلوم۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”اس کے باپ کا نام کیا ہے؟“ اس نے کہا: مجھے نہیں معلوم۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”اس کا گھر کہاں ہے؟“ اس نے کہا: مجھے نہیں معلوم۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ جاننا نہیں کہلاتا، جب تک تم اس کا نام، اس کے باپ کا نام اور اس کا قبیلہ نہ جان لو، تاکہ اگر وہ بیمار ہو تو اس کی عیادت کرو، اور اگر وفات پائے تو اس کے جنازے میں شریک ہو۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 13180
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 12، صفحہ 321، حدیث 13237