المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
سالم عن ابن عمر باب: سالم کی سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایات
حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى السَّاجِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ الْعَطَّارُ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، ثنا قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ رَجُلٍ يُقَالُ لَهُ الْقَاسِمُ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: «لَمَّا مَاتَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَظَرَ الْمُسْلِمُونُ خَيْرَهُمْ فَاسْتَخْلَفُوهُ، وَهُوَ أَبُو بَكْرٍ، فَلَمَّا مَاتَ أَبُو بَكْرٍ نَظَرَ النَّاسُ خَيْرَ الْمُسْلِمِينَ فَاسْتَخْلَفُوهُ، وَهُوَ عُمَرُ، فَلَمَّا مَاتَ أَوْ قُتِلَ نَظَرَ الْمُسْلِمُونَ خَيْرَهُمْ فَاسْتَخْلَفُوهُ، وَهُوَ عُثْمَانُ، إِنْ تَقْتُلُوهُ فَائْتُونِي بِخَيْرٍ مِنْهِ، وَاللهِ مَا أَرَى أَنْ تَفْعَلُوا» قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ: «الْقَاسِمُ هُوَ الَّذِي رَوَى عَنْهَ قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ هَذَا الْحَدِيثَ هُوَ أَبُو نَهِيكٍ بَصْرِيٌّ هُوَ ابْنُ مُحَمَّدٍ»سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ”جب رسول اللہ ﷺ کی وفات ہوئی تو مسلمانوں نے اپنے میں سے بہترین شخص کو دیکھا اور اسے اپنا خلیفہ بنایا، وہ ابوبکر تھے۔ پھر جب ابوبکر کی وفات ہوئی تو لوگوں نے مسلمانوں میں سے بہترین شخص کو دیکھا اور اسے خلیفہ بنایا، وہ عمر تھے۔ پھر جب وہ فوت ہوئے یا شہید کیے گئے تو مسلمانوں نے اپنے میں سے بہترین شخص کو دیکھا اور اسے خلیفہ بنایا، وہ عثمان تھے۔ اگر تم انہیں قتل کر دو تو ان سے بہتر کوئی لے آنا، اللہ کی قسم! میں نہیں سمجھتا کہ تم ایسا کر سکو گے۔“
امام طبرانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”وہ قاسم جن سے قرہ بن خالد نے یہ حدیث روایت کی ہے، یہ ابو نہیک بصری ہیں، جو ابن محمد ہیں۔“