المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
سالم عن ابن عمر باب: سالم کی سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایات
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الْمَدَائِنِيُّ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ، ثنا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ ثَابِتٍ، عَنِ الْوَازِعِ بْنِ نَافِعٍ الْعُقَيْلِيِّ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ فِي قَوْلِهِ: {كَمِشْكَاةٍ} [النور: ٣٥] ، قَالَ: " جَوْفُ مُحَمَّدٍ، وَالزُّجَاجَةُ قَلْبُهُ، وَالْمِصْبَاحُ النُّورُ الَّذِي فِي قَلْبِهِ {يُوقَدُ مِنْ شَجَرَةٍ مُبَارَكَةٍ} [النور: ٣٥] الشَّجَرَةُ إِبْرَاهِيمُ {زَيْتُونَةٍ لَا شَرْقِيَّةٍ وَلَا غَرْبِيَّةٍ} [النور: ٣٥] . لَا يَهُودِيٌّ وَلَا نَصْرَانِيٌّ , ثُمَّ قَرَأَ: {مَا كَانَ إِبْرَاهِيمُ يَهُودِيًّا وَلَا نَصْرَانِيًّا وَلَكِنْ كَانَ حَنِيفًا مُسْلِمًا وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ} [آل عمران: ٦٧]سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما آیت “کَمِشْکَاۃٍ” (جیسے ایک طاق) [سورۃ النور: 35] کی تفسیر میں فرماتے ہیں: ”اس سے مراد محمد ﷺ کا سینہ ہے، اور قندیل سے مراد ان کا دل ہے، اور چراغ سے مراد وہ نور ہے جو ان کے دل میں ہے۔ ‘یُوقَدُ مِنْ شَجَرَةٍ مُبَارَكَةٍ’ (ایک بابرکت درخت سے روشن کیا جاتا ہے) - درخت سے مراد ابراہیم علیہ السلام ہیں۔ ‘زَيْتُونَةٍ لَا شَرْقِيَّةٍ وَلَا غَرْبِيَّةٍ’ (زیتون کا درخت جو نہ مشرقی ہے نہ مغربی) - یعنی نہ یہودی ہیں نہ نصرانی۔“ پھر انہوں نے یہ آیت تلاوت کی: ”ابراہیم نہ یہودی تھے اور نہ نصرانی، بلکہ وہ یکسو مسلمان تھے اور مشرکوں میں سے نہ تھے“ [سورۃ آل عمران: 67]۔