حدیث نمبر: 13169
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الْمَدَائِنِيُّ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ، ثنا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ ثَابِتٍ، عَنِ الْوَازِعِ بْنِ نَافِعٍ الْعُقَيْلِيِّ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ فِي قَوْلِهِ: {كَمِشْكَاةٍ} [النور: ٣٥] ، قَالَ: " جَوْفُ مُحَمَّدٍ، وَالزُّجَاجَةُ قَلْبُهُ، وَالْمِصْبَاحُ النُّورُ الَّذِي فِي قَلْبِهِ {يُوقَدُ مِنْ شَجَرَةٍ مُبَارَكَةٍ} [النور: ٣٥] الشَّجَرَةُ إِبْرَاهِيمُ {زَيْتُونَةٍ لَا شَرْقِيَّةٍ وَلَا غَرْبِيَّةٍ} [النور: ٣٥] . لَا يَهُودِيٌّ وَلَا نَصْرَانِيٌّ , ثُمَّ قَرَأَ: {مَا كَانَ إِبْرَاهِيمُ يَهُودِيًّا وَلَا نَصْرَانِيًّا وَلَكِنْ كَانَ حَنِيفًا مُسْلِمًا وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ} [آل عمران: ٦٧]
ترجمہ

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما آیت “کَمِشْکَاۃٍ” (جیسے ایک طاق) [سورۃ النور: 35] کی تفسیر میں فرماتے ہیں: ”اس سے مراد محمد ﷺ کا سینہ ہے، اور قندیل سے مراد ان کا دل ہے، اور چراغ سے مراد وہ نور ہے جو ان کے دل میں ہے۔ ‘یُوقَدُ مِنْ شَجَرَةٍ مُبَارَكَةٍ’ (ایک بابرکت درخت سے روشن کیا جاتا ہے) - درخت سے مراد ابراہیم علیہ السلام ہیں۔ ‘زَيْتُونَةٍ لَا شَرْقِيَّةٍ وَلَا غَرْبِيَّةٍ’ (زیتون کا درخت جو نہ مشرقی ہے نہ مغربی) - یعنی نہ یہودی ہیں نہ نصرانی۔“ پھر انہوں نے یہ آیت تلاوت کی: ”ابراہیم نہ یہودی تھے اور نہ نصرانی، بلکہ وہ یکسو مسلمان تھے اور مشرکوں میں سے نہ تھے“ [سورۃ آل عمران: 67]۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 13169
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 12، صفحہ 317، حدیث 13226