المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
سالم عن ابن عمر باب: سالم کی سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایات
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ، ثنا أَبِي أَنَّ الْحَجَّاجَ أَمَرَ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللهِ بِقَتْلِ رَجُلٍ فَقَالُ لَهُ سَالِمٌ: أَصَلَّيْتَ الصُّبْحَ؟ فَقَالَ لَهُ الرَّجُلُ: نَعَمْ، فَقَالَ: انْطَلِقْ فَقَالَ لَهُ الْحَجَّاجُ: مَا مَنَعَكَ مِنْ قَتْلِهِ؟ فَقَالَ سَالِمٌ: حَدَّثَنِي أَبِي أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ صَلَّى الصُّبْحَ كَانَ فِي جِوَارِ اللهِ يَوْمَهُ» فَكَرِهْتُ أَنْ أَقْتُلَ رَجُلًا قَدْ أَجَارَهُ اللهُ فَقَالَ الْحَجَّاجُ لِابْنِ عُمَرَ: أَنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: نَعَمْاسحاق بن سعید رحمہ اللہ اپنے والد سے بیان کرتے ہیں کہ حجاج نے سالم بن عبداللہ کو ایک آدمی کے قتل کا حکم دیا، تو سالم نے اس شخص سے پوچھا: کیا تم نے صبح کی نماز پڑھی؟ اس شخص نے کہا: ہاں۔ سالم نے کہا: چلے جاؤ۔ حجاج نے ان سے پوچھا: تمہیں اسے قتل کرنے سے کس چیز نے روکا؟ سالم نے کہا: مجھے میرے والد نے بتایا کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”جو شخص صبح کی نماز پڑھ لے وہ اس دن اللہ کی پناہ میں رہتا ہے۔“ تو مجھے ایسے شخص کو قتل کرنا ناگوار لگا جسے اللہ نے پناہ دے دی ہو۔ اس پر حجاج نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا تم نے یہ بات رسول اللہ ﷺ سے سنی تھی؟ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہاں۔