المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
سالم عن ابن عمر باب: سالم کی سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایات
حدیث نمبر: 13153
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ السَّمَيْدَعِ الْأَنْطَاكِيُّ، ثنا مُوسَى بْنُ أَيُّوبَ النَّصِيبِيُّ، ثنا عَطَاءُ بْنُ مُسْلِمٍ الْخَفَّافُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، قَالَ: كَانَ سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ قَاعِدًا عِنْدَ الْحَجَّاجِ فَقَالَ لَهُ الْحَجَّاجُ: قُمْ فَاضْرِبْ عُنُقَ هَذَا، فَأَخَذَ سَالِمٌ السَّيْفَ وَأَخَذَ الرَّجُلَ، وَتَوَجَّهَ بَابَ الْقَصْرِ فَنَظَرَ إِلَيْهِ أَبُوهُ وَهُوَ يَتَوَجَّهُ بِالرَّجُلِ، فَقَالَ: أَتُرَاهُ فَاعِلًا فَرَدَّهُ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا، فَلَمَّا خَرَجُ بِهِ قَالَ لَهُ سَالِمٌ: صَلَّيْتَ الْغَدَاةَ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَخُذْ أَيَّ طَرِيقٍ شِئْتَ ثُمَّ جَاءَ فَطَرَحَ السَّيْفَ، فَقَالَ لَهُ الْحَجَّاجُ: أَضَرَبْتَ عُنُقَهَ؟ قَالَ: لَا، قَالَ: وَلِمَ؟ قَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ أَبِي هَذَا يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ صَلَّى الْغَدَاةَ كَانَ فِي ذِمَّةِ اللهِ حَتَّى يُمْسِيَ» فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: «مَكِيسٌ إِنَّمَا سَمَّيْنَاكَ سَالِمًا لِتَسْلَمَ»ترجمہ
…اس سے کہا گیا: جو راستہ چاہو اختیار کر لو۔ پھر وہ (سالم) آیا اور تلوار پھینک دی۔ حجاج نے ان سے پوچھا: کیا تم نے اس کی گردن اڑا دی؟ انہوں نے کہا: نہیں۔ اس نے پوچھا: کیوں؟ انہوں نے کہا: میں نے اپنے اس والد کو یہ کہتے سنا ہے: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو صبح کی نماز پڑھے وہ شام تک اللہ کی پناہ میں ہوتا ہے۔“ اس پر ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”عقلمند ہو! ہم نے تمہارا نام سالم اسی لیے رکھا تھا کہ تم سلامت رہو۔“