المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
سالم عن ابن عمر باب: سالم کی سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایات
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ السَّمَيْدَعِ الْأَنْطَاكِيُّ، ثنا مُوسَى بْنُ أَيُّوبَ النَّصِيبِيُّ، ثنا عَطَاءُ بْنُ مُسْلِمٍ الْخَفَّافُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، قَالَ: كَانَ سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ قَاعِدًا عِنْدَ الْحَجَّاجِ فَقَالَ لَهُ الْحَجَّاجُ: قُمْ فَاضْرِبْ عُنُقَ هَذَا، فَأَخَذَ سَالِمٌ السَّيْفَ وَأَخَذَ الرَّجُلَ، وَتَوَجَّهَ بَابَ الْقَصْرِ فَنَظَرَ إِلَيْهِ أَبُوهُ وَهُوَ يَتَوَجَّهُ بِالرَّجُلِ، فَقَالَ: أَتُرَاهُ فَاعِلًا فَرَدَّهُ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا، فَلَمَّا خَرَجُ بِهِ قَالَ لَهُ سَالِمٌ: صَلَّيْتَ الْغَدَاةَ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَخُذْ أَيَّ طَرِيقٍ شِئْتَ ثُمَّ جَاءَ فَطَرَحَ السَّيْفَ، فَقَالَ لَهُ الْحَجَّاجُ: أَضَرَبْتَ عُنُقَهَ؟ قَالَ: لَا، قَالَ: وَلِمَ؟ قَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ أَبِي هَذَا يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ صَلَّى الْغَدَاةَ كَانَ فِي ذِمَّةِ اللهِ حَتَّى يُمْسِيَ» فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: «مَكِيسٌ إِنَّمَا سَمَّيْنَاكَ سَالِمًا لِتَسْلَمَ»اعمش رحمہ اللہ کہتے ہیں: سالم بن عبداللہ حجاج کے پاس بیٹھے تھے، تو حجاج نے ان سے کہا: کھڑے ہو کر اس شخص کی گردن اڑا دو۔ سالم نے تلوار پکڑی اور اس شخص کو لے کر محل کے دروازے کی طرف چل دیے۔ ان کے والد سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے انہیں اس شخص کو لے جاتے دیکھا تو کہا: کیا تم سمجھتے ہو کہ یہ واقعی ایسا کر گزرے گا؟ اور یہ بات دو یا تین بار دہرائی۔ جب سالم اس شخص کو لے کر باہر نکلے تو اس سے پوچھا: کیا تم نے صبح کی نماز پڑھی؟ اس نے کہا: ہاں۔ سالم نے کہا: پھر جہاں چاہو چلے جاؤ۔ پھر وہ آئے اور تلوار پھینک دی۔ حجاج نے ان سے پوچھا: کیا تم نے اس کی گردن اڑا دی؟ انہوں نے کہا: نہیں۔ اس نے پوچھا: کیوں نہیں؟ انہوں نے کہا: میں نے اپنے والد کو یہ کہتے سنا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص صبح کی نماز پڑھ لے وہ شام تک اللہ کی امان میں ہے۔“ اس پر سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”عقلمند نکلے! ہم نے تمہارا نام سالم اسی لیے رکھا تھا کہ تم سلامت رہو۔“