المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
سالم عن ابن عمر باب: سالم کی سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایات
حدیث نمبر: 13116
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ الْحَرَّانِيُّ، ثنا أَبِي ثنا زُهَيْرٌ، ثنا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ رُؤْيَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَبِي بَكْرٍ، وَعُمَرَ، قَالَ: «رَأَيْتُ النَّاسَ اجْتَمَعُوا فَقَامَ أَبُو بَكْرٍ فَنَزَعَ ذَنُوبًا أَوْ ذَنُوبَيْنِ، وَفِي نَزْعِهِ ضَعْفٌ، وَاللهُ يَغْفِرُ لَهُ، ثُمَّ قَامَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَاسْتَحَالَتْ غَرْبًا فَمَا رَأَيْتُ عَبْقَرِيًّا مِنَ النَّاسِ يَفْرِي فَرِيَّهُ حَتَّى ضَرَبَ النَّاسُ بِعَطَنٍ»ترجمہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما کے بارے میں اپنا خواب بیان کرتے ہوئے فرمایا: ”میں نے دیکھا کہ لوگ جمع ہوئے، تو ابوبکر کھڑے ہوئے اور ایک یا دو ڈول پانی نکالا، ان کے کھینچنے میں کچھ کمزوری تھی، اللہ انہیں معاف فرمائے، پھر عمر بن خطاب کھڑے ہوئے تو ڈول بڑا ڈول بن گیا، میں نے لوگوں میں کسی کو ان جیسی مہارت سے کام کرتے نہیں دیکھا، یہاں تک کہ لوگوں نے اونٹوں کو پانی پلا کر باڑے میں بٹھا دیا۔“