حدیث نمبر: 13114
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ الْعَمِّيُّ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُخْتَارِ، أنا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، حَدَّثَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ سَمِعَهُ يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حِينَ أَمَّرَ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ فَبَلَغَهُ أَنَّ النَّاسَ عَابُوا أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ وَطَعَنُوا فِي إِمَارَتِهِ، فَقَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي النَّاسِ , فَقَالَ: «أَلَا إِنَّكُمْ تَعِيبُونَ أُسَامَةَ وَتَطْعَنُونَ فِي إِمَارَتِهِ، وَقَدْ فَعَلْتُمْ ذَلِكَ بِأَبِيهِ مِنْ قَبْلُ، وَإِنْ كَانَ لَخَلِيقًا لِلْإِمَارَةِ، وَإِنْ كَانَ لَأَحَبَّ النَّاسِ كُلِّهِمْ إِلَيَّ، وَإِنَّ هَذَا مِنْ بَعْدِهِ لَأَحَبُّ النَّاسِ إِلَيَّ فَاسْتَوْصُوا بِهِ خَيْرًا فَإِنَّهُ مِنْ خِيَارِكُمْ» قَالَ سَالِمٌ: " فَمَا سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ يُحَدِّثُ بِهَذَا الْحَدِيثِ قَطُّ إِلَّا قَالَ: حَاشَا فَاطِمَةَ "
ترجمہ

…جب آپ ﷺ نے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کو امیر مقرر فرمایا تو آپ ﷺ کو معلوم ہوا کہ لوگ اسامہ پر عیب لگا رہے ہیں اور ان کی امارت پر طعنہ زنی کر رہے ہیں، تو رسول اللہ ﷺ لوگوں میں کھڑے ہو کر فرمایا: ”سن لو! تم اسامہ پر عیب لگاتے ہو اور اس کی امارت پر طعنہ زنی کرتے ہو، حالانکہ تم نے اس سے پہلے اس کے باپ کے ساتھ بھی ایسا کیا تھا، جبکہ وہ امارت کے اہل تھے، اور وہ مجھے تمام لوگوں سے زیادہ محبوب تھے، اور یہ (اسامہ) ان کے بعد مجھے سب لوگوں سے زیادہ محبوب ہے، سو اس کے ساتھ بھلائی کی نصیحت قبول کرو کیونکہ وہ تمہارے بہترین لوگوں میں سے ہے۔“ سالم کہتے ہیں: ”میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو یہ حدیث بیان کرتے ہوئے کبھی نہیں سنا مگر وہ یہ ضرور کہتے: سوائے فاطمہ رضی اللہ عنہا کے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 13114
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 12، صفحہ 298، حدیث 13171