المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
سالم عن ابن عمر باب: سالم کی سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایات
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ الْعَمِّيُّ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُخْتَارِ، أنا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، حَدَّثَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ سَمِعَهُ يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حِينَ أَمَّرَ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ فَبَلَغَهُ أَنَّ النَّاسَ عَابُوا أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ وَطَعَنُوا فِي إِمَارَتِهِ، فَقَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي النَّاسِ , فَقَالَ: «أَلَا إِنَّكُمْ تَعِيبُونَ أُسَامَةَ وَتَطْعَنُونَ فِي إِمَارَتِهِ، وَقَدْ فَعَلْتُمْ ذَلِكَ بِأَبِيهِ مِنْ قَبْلُ، وَإِنْ كَانَ لَخَلِيقًا لِلْإِمَارَةِ، وَإِنْ كَانَ لَأَحَبَّ النَّاسِ كُلِّهِمْ إِلَيَّ، وَإِنَّ هَذَا مِنْ بَعْدِهِ لَأَحَبُّ النَّاسِ إِلَيَّ فَاسْتَوْصُوا بِهِ خَيْرًا فَإِنَّهُ مِنْ خِيَارِكُمْ» قَالَ سَالِمٌ: " فَمَا سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ يُحَدِّثُ بِهَذَا الْحَدِيثِ قَطُّ إِلَّا قَالَ: حَاشَا فَاطِمَةَ "سالم رحمہ اللہ اپنے والد سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے انہیں رسول اللہ ﷺ کے بارے میں یہ حدیث بیان کرتے سنا: جب آپ ﷺ نے سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کو امیر مقرر فرمایا تو آپ ﷺ کو یہ خبر پہنچی کہ لوگوں نے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ پر عیب لگایا اور ان کی امارت میں طعنہ زنی کی۔ اس پر رسول اللہ ﷺ لوگوں میں کھڑے ہوئے اور فرمایا: ”سن لو، تم اسامہ پر عیب لگاتے ہو اور اس کی امارت میں طعنہ زنی کرتے ہو، حالانکہ اس سے پہلے تم نے اس کے والد کے ساتھ بھی ایسا ہی کیا تھا، جبکہ وہ امارت کے اہل تھے، اور وہ تمام لوگوں میں سب سے زیادہ مجھے محبوب تھے، اور اسامہ ان کے بعد مجھے سب لوگوں سے زیادہ محبوب ہے، تو اس کے بارے میں بھلائی کی نصیحت قبول کرو، کیونکہ وہ تمہارے بہترین لوگوں میں سے ہے۔“ سالم رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے عبداللہ (بن عمر) کو کبھی یہ حدیث بیان کرتے نہیں سنا مگر وہ ہمیشہ کہتے: سوائے فاطمہ رضی اللہ عنہا کے۔