المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
ذكر سنه ووفاته باب: سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی عمر اور وفات کا بیان
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ كَيْسَانَ الْيَشْكُرِيِّ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ مَرَّ عَلَى رَجُلٍ، وَمَعَهُ غُنَيْمَاتٌ لَهُ فَقَالَ لَهُ: بِكَمْ تَبِيعُ غَنَمِكَ هَذِهِ؟ قَالَ: بِكَذَا وَكَذَا، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: آخُذُهَا بِكَذَا وَكَذَا فَحَلَفَ أَنْ لَا يَبِيعَهَا، فَانْطَلَقَ ابْنُ عُمَرَ فَقَضَى حَاجَتَهُ فَمَرَّ عَلَيْهِ فَقَالَ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ خُذْهَا بِالَّذِي أَعْطَيْتَنِي قَالَ: «حَلَفْتُ عَلَى يَمِينٍ فَلَمْ أَكُنْ لِأُعِينَ الشَّيْطَانَ عَلَيْكَ، إِنِّي أُحْنِثُكَ»ابوحازم رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ ایک آدمی کے پاس سے گزرے جس کے ساتھ اس کی کچھ بکریاں تھیں، تو انہوں نے اس سے پوچھا: تم اپنی یہ بکریاں کتنے میں بیچتے ہو؟ اس نے کہا: اتنے اتنے میں۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں انہیں اتنے اتنے میں لیتا ہوں۔ اس پر اس شخص نے قسم کھا لی کہ وہ انہیں نہیں بیچے گا۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ چلے گئے اور اپنی ضرورت پوری کی، پھر اس کے پاس سے دوبارہ گزرے تو اس نے کہا: اے ابو عبدالرحمٰن! جو آپ نے مجھے پیش کیا تھا اس پر انہیں لے لیجیے۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”تم نے ایک قسم کھائی تھی، تو میں تمہارے خلاف شیطان کی مدد کرنے والا نہیں کہ تمہاری قسم تڑواؤں۔“