المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
ذكر سنه ووفاته باب: سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی عمر اور وفات کا بیان
حدیث نمبر: 12998
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ الصَّائِغُ، ثنا أَبُو مُصْعَبٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْحَارِثِ الْجُمَحِيُّ، ثنا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ، قَالَ: مَرَّ ابْنُ عُمَرَ بِرَاعِي غَنَمٍ فَقَالَ: يَا رَاعِيَ الْغَنَمِ هَلْ مِنْ جَزْرَةٍ قَالَ الرَّاعِي: لَيْسَ هَا هُنَا رَبُّهَا، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: تَقُولُ: «أَكَلَهَا الذِّئْبُ» فَرَفَعُ الرَّاعِي رَأْسَهُ إِلَى السَّمَاءِ، ثُمَّ قَالَ: فَأَيْنَ اللهُ؟ فَاشْتَرَى ابْنُ عُمَرَ الرَّاعِي وَاشْتَرَى الْغَنَمَ فَأَعْتَقَهُ، وَأَعْطَاهُ الْغَنَمَ "ترجمہ
زید بن اسلم بیان کرتے ہیں: سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما ایک بکریوں کے چرواہے کے پاس سے گزرے تو کہا: اے چرواہے! کیا کوئی جانور ہے؟ چرواہے نے کہا: اس کا مالک یہاں موجود نہیں۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: تم کہہ دو کہ اسے بھیڑیا کھا گیا۔ چرواہے نے اپنا سر آسمان کی طرف اٹھایا، پھر کہا: تو پھر اللہ کہاں ہے؟ چنانچہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اس چرواہے کو خرید لیا اور بکریاں بھی خرید لیں، پھر اسے آزاد کر دیا اور بکریاں اسے دے دیں۔