❮
❯
حدیث نمبر: 12986
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: عُرِضْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا ابْنُ أَرْبَعَ عَشْرَةَ سَنَةً ثُمَّ ذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: وَكَانَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ: لَا يَفْرِضُ لِأَحَدٍ حَتَّى يَبْلُغَ الْحُلُمَ إِلَّا مِائَةَ دِرْهَمٍ , وَكَانَ لَا يَفْرِضُ لِمَوْلُودٍ حَتَّى يُفْطَمَ، فَبَيْنَا هُوَ يَطُوفُ ذَاتَ لَيْلَةٍ بِالْمُصَلَّى بَكَى صَبِيٌّ، فَقَالَ لِأُمِّهِ: أَرْضِعِيهِ، فَقَالَتْ: إِنَّ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ لَا يَفْرِضُ لِمَوْلُودٍ حَتَّى يُفْطَمَ وَإِنِّي قَدْ فَطَمْتُهُ، فَقَالَ عُمَرُ: «إِنْ كِدْتُ لَأَقْتُلُهُ أَرْضِعِيهِ فَإِنَّ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ سَوْفَ يَفْرِضُ لَهُ، ثُمَّ فَرَضَ بَعْدَ ذَلِكَ لِلْمَوْلُودِ حِينَ يُولَدُ»
ترجمہ

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: مجھے نبی کریم ﷺ کے سامنے پیش کیا گیا جبکہ میری عمر چودہ سال تھی، پھر راوی نے عبداللہ بن عمر کی حدیث کی طرح بیان کیا، سوائے اس کے کہ اس نے کہا: عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کسی کے لیے وظیفہ مقرر نہیں کرتے تھے یہاں تک کہ وہ بلوغت کو پہنچ جاتا، سوائے سو درہم کے، اور وہ کسی نومولود کے لیے وظیفہ مقرر نہیں کرتے تھے یہاں تک کہ اس کا دودھ چھڑایا جاتا۔ ایک رات جب وہ مصلیٰ میں گشت لگا رہے تھے تو ایک بچہ رونے لگا، تو انہوں نے اس کی ماں سے کہا: اسے دودھ پلاؤ۔ اس نے کہا: امیر المومنین تو کسی نومولود کے لیے وظیفہ مقرر نہیں کرتے یہاں تک کہ اس کا دودھ چھڑایا جائے، اور میں نے تو اس کا دودھ چھڑا دیا ہے۔ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے فرمایا: ”میں تو اسے قتل کرنے کے قریب پہنچ گیا تھا! اسے دودھ پلاؤ، امیر المومنین تو اس کے لیے وظیفہ مقرر کریں گے۔“ پھر اس کے بعد انہوں نے ہر نومولود کے لیے پیدائش ہی کے وقت سے وظیفہ مقرر کر دیا۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 12986
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 12، صفحہ 259، حدیث 13042