المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
ذكر سنه ووفاته باب: سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی عمر اور وفات کا بیان
حَدَّثَنَا أَبُو خَلِيفَةَ الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي سُوَيْدٍ الذِّرَاعُ، ثنا عُمَارَةُ بْنُ زَاذَانَ، حَدَّثَنِي مَكْحُولٌ، قَالَ: بَيْنَمَا أَنَا مَعَ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَهُوَ يَمْشِي إِذْ مَرَّ بِهِ رَجُلٌ أَسْوَدُ مَعَهُ رُمْحٌ فَوَضَعَ زُجَّ الرُّمْحِ بَيْنَ السَّبَّابَةِ، وَالْإِبْهَامِ مِنْ قَدَمِ ابْنِ عُمَرَ فَحُمِلَ الشَّيْخُ فَأُدْخِلَ فَوَرِمَتْ سَاقُهُ، فَأَتَاهُ الْحَجَّاجُ يَعُودُهُ، فَقَالَ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَنْ أَصَابَكَ بِهَذَا حَتَّى آخُذَ لَكَ مِنْهُ؟ فَقَالَ: «وَاللهِ لَتَأْخُذَنَّ مِنْهُ؟» قَالَ: وَاللهِ لَآخُذَنَّ لَكَ مِنْهُ، قَالَ: «مَا بَالُ حَرَمِ اللهِ وَأَمْنِهِ يُحْمَلُ فِيهِ السِّلَاحُ؟» قَالَ: فَمَاتَ فِيهَامکحول رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا، وہ چل رہے تھے کہ ایک کالے رنگ کا آدمی نیزہ لیے ہوئے ان کے پاس سے گزرا اور نیزے کی انی سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ کے پاؤں کی شہادت اور انگوٹھے کی انگلیوں کے درمیان رکھ دی۔ بزرگ کو اٹھا کر اندر لے جایا گیا تو ان کی پنڈلی سوج گئی۔ حجاج ان کی عیادت کے لیے آیا اور کہا: اے ابو عبدالرحمٰن! کس نے آپ کو یہ زخم پہنچایا، تاکہ میں اس سے آپ کا بدلہ لوں؟ انہوں نے فرمایا: ”کیا واقعی تم اس سے بدلہ لو گے؟“ اس نے کہا: اللہ کی قسم! میں ضرور آپ کا بدلہ لوں گا۔ انہوں نے فرمایا: ”کیا بات ہے کہ اللہ کے حرم اور اس کی امن گاہ میں ہتھیار اٹھائے جاتے ہیں؟“ راوی کہتے ہیں: پھر وہ اسی زخم کی وجہ سے انتقال کر گئے۔