المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
علي بن أبي طلحة، عن ابن عباس باب: علی بن ابی طلحہ کی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایات
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ: {وَإِذَا كُنْتَ فِيهِمْ فَأَقَمْتَ لَهُمُ الصَّلَاةَ فَلْتَقُمْ طَائِفَةٌ مِنْهُمْ مَعَكَ} [النساء: ١٠٢] فَهَذَا الصَّلَاةُ عِنْدَ الْخَوْفِ يَقُومُ الْإِمَامُ، وَيَقُومُ مَعَهُ طَائِفَةٌ مِنْهُمْ، وَطَائِفَةٌ يَأْخُذُونَ أَسْلِحَتَهُمْ، وَيَقِفُونَ بِإِزَاءِ الْعَدُوِّ، فَيُصَلِّي الْإِمَامُ بِمَنْ مَعَهُ رَكْعَةً , ثُمَّ يَجْلِسُ عَلَى هَيْئَتِهِ فَيَقُومُونَ، فَيُصَلُّونَ لِأَنْفُسِهِمُ الرَّكْعَةَ الثَّانِيَةَ وَالْإِمَامُ جَالِسٌ، ثُمَّ يَنْصَرِفُونَ حَتَّى يَأْتُوا أَصْحَابَهُمْ فَيَقِفُونَ مَوْقِفَهُمْ , ثُمَّ يُقْبِلُ الْآخَرُونَ فَيُصَلِّي لَهُمُ الْإِمَامُ الرَّكْعَةَ الثَّانِيَةَ، فَهَكَذَا «صَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّاسِ يَوْمَ بَطْنِ نَخْلَةَ»سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اللہ تعالیٰ کے اس فرمان: ”اور جب آپ ان میں ہوں اور ان کے لیے نماز قائم کریں تو ان میں سے ایک جماعت آپ کے ساتھ کھڑی ہو“ [سورۃ النساء: 102] کے بارے میں فرماتے ہیں: یہ خوف کی حالت میں نماز ہے، امام کھڑا ہوتا ہے، اور اس کے ساتھ ان میں سے ایک جماعت کھڑی ہوتی ہے، جبکہ دوسری جماعت اپنے ہتھیار تھامے دشمن کے سامنے کھڑی رہتی ہے، پھر امام اپنے ساتھ والوں کو ایک رکعت پڑھاتا ہے، پھر اپنی حالت پر بیٹھا رہتا ہے تو وہ کھڑے ہو جاتے ہیں اور امام کے بیٹھے رہنے کے دوران اپنے لیے دوسری رکعت پڑھتے ہیں، پھر وہ واپس چلے جاتے یہاں تک کہ اپنے ساتھیوں کے پاس آ جاتے اور ان کی جگہ کھڑے ہو جاتے، پھر دوسرا گروہ آگے آتا تو امام انہیں دوسری رکعت پڑھاتا، اسی طرح رسول اللہ ﷺ نے بطن نخلہ کے دن لوگوں کو نماز پڑھائی۔