المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
علي بن أبي طلحة، عن ابن عباس باب: علی بن ابی طلحہ کی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایات
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ طَلْحَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ: {يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْيَتَامَى قُلْ إِصْلَاحٌ لَهُمْ خَيْرٌ} [البقرة: ٢٢٠] وَذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ: {إِنَّ الَّذِينَ يَأْكُلُونَ أَمْوَالَ الْيَتَامَى ظُلْمًا إِنَّمَا يَأْكُلُونَ فِي بُطُونِهِمْ نَارًا وَسَيَصْلَوْنَ سَعِيرًا} [النساء: ١٠] كَرِهَ الْمُسْلِمُونَ مُؤَاكَلَةَ الْيَتَامَى وَتَحَرَّجُوا إِنْ خَالَطُوهُمْ فِي شَيْءٍ، فَسَأَلُوا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: " {قُلْ إِصْلَاحٌ لَهُمْ خَيْرٌ وَإِنْ تُخَالِطُوهُمْ فَإِخْوَانُكُمْ وَاللهُ يَعْلَمُ الْمُفْسِدَ مِنَ الْمُصْلِحِ وَلَوْ شَاءَ اللهُ لَأَعْنَتَكُمْ} [البقرة: ٢٢٠] يَقُولُ: لَضَيَّقَ عَلَيْكُمْ، وَلَكِنَّهُ وَسَّعَ وَيَسَّرَ، فَقَالَ: {مَنْ كَانَ غَنِيًّا فَلْيَسْتَعْفِفْ وَمَنْ كَانَ فَقِيرًا فَلْيَأْكُلْ بِالْمَعْرُوفِ} [النساء: ٦] ، يَقُولُ: يَأْكُلُ الْفَقِيرُ إِذَا وَلِيَ مَالَ الْيَتِيمِ بِقَدْرِ قِيَامِهِ عَلَى مَالِهِ وَمَنْفَعَتِهِ مَا لَمْ يُسْرِفْسیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اللہ تعالیٰ کے فرمان ”لوگ آپ سے یتیموں کے بارے میں پوچھتے ہیں، فرما دیجیے: ان کی اصلاح کرنا بہتر ہے“ [سورۃ البقرۃ: 220] کے بارے میں فرماتے ہیں - اور یہ اس آیت کے نازل ہونے سے پہلے کی بات ہے: ”بیشک جو لوگ یتیموں کا مال ظلماً کھاتے ہیں وہ دراصل اپنے پیٹوں میں آگ بھرتے ہیں اور عنقریب وہ بھڑکتی ہوئی آگ میں داخل ہوں گے“ [سورۃ النساء: 10] - مسلمانوں نے یتیموں کے ساتھ کھانا کھانا ناپسند کیا اور کسی بھی معاملے میں ان سے میل جول رکھنے میں حرج محسوس کرنے لگے، تو انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا، اس پر اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی: ”فرما دیجیے: ان کی اصلاح کرنا بہتر ہے، اور اگر تم ان سے میل جول رکھو تو وہ تمہارے بھائی ہیں، اور اللہ بگاڑنے والے کو سنوارنے والے سے خوب جانتا ہے، اور اگر اللہ چاہتا تو تمہیں مشقت میں ڈال دیتا“ [سورۃ البقرۃ: 220] - یعنی وہ تم پر تنگی کر دیتا، لیکن اس نے وسعت اور آسانی دی، پھر فرمایا: ”جو غنی ہو وہ بچے، اور جو فقیر ہو وہ دستور کے مطابق کھا لے“ [سورۃ النساء: 6] - یعنی فقیر شخص، جب وہ یتیم کے مال کا ولی ہو، تو اس کی دیکھ بھال اور اس کے نفع کے بقدر اس میں سے کھا سکتا ہے، جب تک اسراف نہ کرے۔