المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
يوسف بن مهران، عن ابن عباس باب: یوسف بن مہران کی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایات
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلُّويَةَ الْقَطَّانُ، ثنا أَبُو نَصْرٍ التَّمَّارُ، ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَا: ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مِهْرَانَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَتَاهُ فِيمَا يَرَى النَّائِمُ الْمَلَكَانِ، فَقَعَدَ أَحَدُهُمَا عِنْدَ رِجْلَيْهِ، وَالْآخَرُ عِنْدَ رَأْسِهِ، فَقَالَ الَّذِي عِنْدَ رِجْلَيْهِ لِلَّذِي عِنْدَ رَأْسِهِ: اضْرِبْ مَثَلَ هَذَا وَمَثَلَ أُمَّتِهِ قَالَ: إِنَّ مَثَلَ هَذَا وَمَثَلَ أُمَّتِهِ كَمَثَلِ قَوْمٍ سَفْرٍ انْتَهَوْا إِلَى رَأْسِ مَفَازَةٍ فَلَمْ يَكُنْ مَعَهُمْ مِنَ الزَّادِ مَا يَقْطَعُونَ بِهِ الْمَفَازَةَ، وَلَا مَا يَرْجِعُونَ بِهِ فَبَيْنَمَا هُمْ كَذَلِكَ إِذْ أَتَاهُمْ رَجُلٌ عَلَيْهِ حُلَّةٌ حِبَرَةٌ فَقَالَ: أَرَأَيْتُمْ إِنْ وَرَدْتُ بِكُمْ رِيَاضًا مُعْشِبَةً، وَحِيَاضًا رَوَاءً أَتَتَّبِعُونِي؟ قَالُوا: نَعَمْ , فَانْطَلَقَ بِهِمْ فَأَوْرَدَهُمْ رِيَاضًا مُعْشِبَةً، وَحِيَاضًا رَوَاءً فَأَكَلُوا، وَشَرِبُوا، وَأَسْمَنُوا , فَقَالَ لَهُمْ: أَلَمْ أَلْفَكُمْ عَلَى تِلْكَ الْحَالِ؟ قَالُوا: بَلَى , فَجَعَلْتُمْ إِنْ وَرَدْتُ بِكُمْ رِيَاضًا مُعْشِبَةً، وَحِيَاضًا رَوَاءً أَنْ تَتَّبِعُونِي؟ قَالُوا: نَعَمْ، فَقَالَتْ طَائِفَةٌ مِنْهُمْ: صَدَقَ وَاللهِ لَنَتَّبِعَنَّهُ، وَقَالَتْ طَائِفَةٌ مِنْهُمْ: قَدْ رَضِينَاهَا نُقِيمُ عَلَيْهَا "سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس خواب میں دو فرشتے آئے، ایک آپ ﷺ کے پاؤں کے پاس بیٹھ گیا اور دوسرا آپ ﷺ کے سر کے پاس، تو جو پاؤں کے پاس تھا اس نے سر کے پاس والے سے کہا: اس نبی اور اس کی امت کی مثال بیان کرو۔ اس نے کہا: ”اس اور اس کی امت کی مثال ایسی ہے جیسے کچھ مسافر ایک بیابان کے کنارے پہنچے، ان کے پاس نہ اتنا توشہ تھا جس سے وہ بیابان پار کر سکیں، اور نہ اتنا کہ واپس لوٹ سکیں۔ وہ اسی حال میں تھے کہ ایک شخص خوبصورت چادر پہنے ان کے پاس آیا اور کہا: بتاؤ اگر میں تمہیں ہری بھری چراگاہوں اور شفاف حوضوں تک لے جاؤں تو کیا تم میری پیروی کرو گے؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ چنانچہ وہ انہیں لے کر چلا اور ہری بھری چراگاہوں اور شفاف حوضوں تک پہنچا دیا، تو انہوں نے کھایا، پیا اور موٹے تازے ہو گئے۔ پھر اس نے ان سے کہا: کیا میں نے تمہیں اسی حال میں نہیں پایا تھا؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں۔ تو تم نے یہ طے کیا تھا کہ اگر میں تمہیں ہری بھری چراگاہوں اور شفاف حوضوں تک لے جاؤں تو میری پیروی کرو گے؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ اس پر ان میں سے ایک گروہ نے کہا: اللہ کی قسم! اس نے سچ کہا، ہم ضرور اس کی پیروی کریں گے، جبکہ دوسرے گروہ نے کہا: ہم تو اسی حال پر راضی ہیں، ہم یہیں ٹھہرے رہیں گے۔“